Skip to content
Duration3:53

یہ شہر ہمارا ہے

شہریار ستم

پاکستانی ہپ ہاپ

About

یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی طبلہ کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے، جس میں بھاری 808 بیس لائنز اور گلیوں کی حقیقتوں کو بیان کرنے والا ایک مضبوط لہجہ شامل ہے۔ اس کی پروڈکشن میں مشرقی موسیقی کے عناصر اور ہپ ہاپ کے جارحانہ انداز کا بہترین توازن موجود ہے۔

Lyrics

intro

دھول اڑتی گلیوں سے نکلے ہماندھیروں میں چراغ جلائے ہمسڑکوں کی پکار، یہ دل کی دھڑکنسنو، اب خاموشی ٹوٹے گی

verse

کونکریٹ کے جنگل میں، خوابوں کا قبرستان ہےہر چہرے پہ لکھی کہانی، ایک الگ ہی داستان ہےکبھی بھوکے پیٹ، کبھی جیب میں بس خواب لیےہم چلے تھے اکیلے، اب کارواں ساتھ لیےوہ جو کہتے تھے کہ ہم کبھی نہ اٹھ پائیں گےان کی آنکھوں میں اب ہم سچائی بن کے چھائیں گےیہ گلیوں کا شور، یہ میرا لہجہ، یہ میرا مانہماری محنت، ہماری ہمت، یہی تو ہے پہچان

chorus

یہ شہر ہمارا ہے، یہ سڑکیں ہماری ہیںہم نے لکھی ہیں تقدیریں، یہ ہمت ہماری ہےنہ جھکیں گے، نہ رکیں گے، ہم خود اپنی راہ بنائیں گےآسمان چھونے کی ضد ہے، اب ہم سب کچھ پا جائیں گے

verse

سیاہی میں لپٹی صبح، اور دھند میں کھوئی شامکس کو پرواہ ہے یہاں، کس کا ہے کیا نامہم نے سیکھا ہے لڑنا، حالات کی چکی میں پس کرہم نے سیکھا ہے جینا، ہر زخم کو ہنس کریہاں انصاف کی قیمت، اب بھی ہے بہت مہنگیمگر ہماری آواز، اب تو ہر دیوار سے ہے گزرتیہم وہ طوفان ہیں جو اب رکنے والے نہیںہم وہ خواب ہیں جو اب مٹنے والے نہیں

bridge

وقت کی رفتار، اور ہم ہیں اس کے سوارپیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں، بس آگے ہے پکارجو بھی تھا کل، وہ اب قصہ بن گیانیا سورج، نیا عزم، اب ہمارا حصہ بن گیا

chorus

یہ شہر ہمارا ہے، یہ سڑکیں ہماری ہیںہم نے لکھی ہیں تقدیریں، یہ ہمت ہماری ہےنہ جھکیں گے، نہ رکیں گے، ہم خود اپنی راہ بنائیں گےآسمان چھونے کی ضد ہے، اب ہم سب کچھ پا جائیں گے

outro

خاموشی ٹوٹ چکی ہےسچائی بول رہی ہےہم یہاں تھے، ہم یہاں ہیںہمیشہ رہیں گےآگے بڑھو، بس آگے بڑھو

یہ شہر ہمارا ہے

شہریار ستم

Preview

یہ شہر ہمارا ہے by شہریار ستم | EchoLoRA: Generate a Song with AI