Skip to content
Duration5:08

سرِ نیاز

استاد فریدِ صابری

قوالی

About

یہ قوالی ایک گہرے روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے جس میں ہارمونیم کے مسلسل ڈرون اور طبلے کی تھاپ پر مبنی تال شامل ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے، جہاں تالیوں کی گونج اور جذباتی آوازیں مل کر ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی ذکر بسا ہےمدتوں سے بھٹکتا رہا ہوں میں راہوں میںاب تو آ جا، کہ دل کو تیرا ہی آسرا ہے

verse

میں تو اک ذرہ ہوں، تو ہے وہ آفتابِ ازلتیرے جلووں سے روشن ہے یہ کائناتِ عملمیری ہستی تو تیری ہی چاہت کا عکس ہےتجھے پا کر ہی مٹ جائے گا یہ سارا خللمیں تو اک ذرہ ہوں، تو ہے وہ آفتابِ ازل

chorus

مجھ کو اپنا بنا لے، اے میرے دلدارتیرے در پر جھکا ہے، یہ میرا سرِ نیازتیری الفت میں کھویا، میں خود سے جدا ہوںمیری روح میں گونجے، تیری ہی آواز

rhythmic-break

ہو، میرا سرِ نیاز، تیری ہی آوازہو، تیرے ہی رنگ میں، رنگ لوں یہ سازمیں تو تیرا، میں تو تیرا، میں تو تیرا ہی ہوںمیری سانسوں میں تیرا ہی ہے، تیرا ہی ہے پرواز

crescendo

تیری طلب میں جلتا ہے، یہ تن بدن میراتیرے ہی عشق میں، گزرے یہ شب و روز میراکوئی منزل نہیں، کوئی راستہ نہیں باقیبس تو ہی تو نظر آئے، جہاں بھی دیکھوں میںاے میرے مرشد، اے میرے محبوبِ حقیقیتیری ہی ذات میں، سمٹ جائے وجود میرا

chorus

مجھ کو اپنا بنا لے، اے میرے دلدارتیرے در پر جھکا ہے، یہ میرا سرِ نیازتیری الفت میں کھویا، میں خود سے جدا ہوںمیری روح میں گونجے، تیری ہی آواز

outro

اب تو آ جا، کہ سانسیں تھمنے لگی ہیںتیرے دیدار کی پیاس، بڑھنے لگی ہےمیں تیرا، میں تیرا، میں تیرا ہی ہوںبس تیرا ہی ذکر، لبوں پر سجا ہےبس تیرا ہی ذکر، لبوں پر سجا ہے

سرِ نیاز

استاد فریدِ صابری

Preview

سرِ نیاز by استاد فریدِ صابری | EchoLoRA: Generate a Song with AI