سرِ نیاز
استاد فریدِ صابری
قوالی
About
یہ قوالی ایک گہرے روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے جس میں ہارمونیم کے مسلسل ڈرون اور طبلے کی تھاپ پر مبنی تال شامل ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے، جہاں تالیوں کی گونج اور جذباتی آوازیں مل کر ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی ذکر بسا ہےمدتوں سے بھٹکتا رہا ہوں میں راہوں میںاب تو آ جا، کہ دل کو تیرا ہی آسرا ہے
میں تو اک ذرہ ہوں، تو ہے وہ آفتابِ ازلتیرے جلووں سے روشن ہے یہ کائناتِ عملمیری ہستی تو تیری ہی چاہت کا عکس ہےتجھے پا کر ہی مٹ جائے گا یہ سارا خللمیں تو اک ذرہ ہوں، تو ہے وہ آفتابِ ازل
مجھ کو اپنا بنا لے، اے میرے دلدارتیرے در پر جھکا ہے، یہ میرا سرِ نیازتیری الفت میں کھویا، میں خود سے جدا ہوںمیری روح میں گونجے، تیری ہی آواز
ہو، میرا سرِ نیاز، تیری ہی آوازہو، تیرے ہی رنگ میں، رنگ لوں یہ سازمیں تو تیرا، میں تو تیرا، میں تو تیرا ہی ہوںمیری سانسوں میں تیرا ہی ہے، تیرا ہی ہے پرواز
تیری طلب میں جلتا ہے، یہ تن بدن میراتیرے ہی عشق میں، گزرے یہ شب و روز میراکوئی منزل نہیں، کوئی راستہ نہیں باقیبس تو ہی تو نظر آئے، جہاں بھی دیکھوں میںاے میرے مرشد، اے میرے محبوبِ حقیقیتیری ہی ذات میں، سمٹ جائے وجود میرا
مجھ کو اپنا بنا لے، اے میرے دلدارتیرے در پر جھکا ہے، یہ میرا سرِ نیازتیری الفت میں کھویا، میں خود سے جدا ہوںمیری روح میں گونجے، تیری ہی آواز
اب تو آ جا، کہ سانسیں تھمنے لگی ہیںتیرے دیدار کی پیاس، بڑھنے لگی ہےمیں تیرا، میں تیرا، میں تیرا ہی ہوںبس تیرا ہی ذکر، لبوں پر سجا ہےبس تیرا ہی ذکر، لبوں پر سجا ہے
سرِ نیاز
استاد فریدِ صابری
Preview