مستی کا دریا
مست راہی
قوالی فیوژن
About
یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری، پرجوش تالیوں کی آوازیں، اور ایک گہرا روحانی تجربہ شامل ہے جو سننے والے کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں اور یہ ویران راستہتیرے نام کا درد، میرا واسطہکھویا ہوں میں اپنی ہی تلاش میںتو ہی ہے منزل، تو ہی راستہ
کبھی خود سے دور، کبھی اپنے قریبتیری چاہت کا ہے یہ عجیب نصیبدل کی دھڑکن میں تیرا ہی شور ہےتو ہی نزدیک، تو ہی ہے کتنا غریبمیں نے مٹایا خود کو تیری دید کے لیےسجدہ کیا ہے تیرے ہی نام کے لیے
مستی میں ڈوبا ہے یہ جہاں ساراتیرا ہی عکس ہے، تو ہی ہے پیاراروح کی پیاس ہے، تو ہی ہے دریاتجھ سے ہی روشن ہے یہ گوشہ تنہامستی میں ڈوبا ہے یہ جہاں سارا
نہ کوئی رنگ ہے، نہ کوئی ہے ذاتتیرے قرب میں کٹی ہے میری راتلفظوں کی قید سے اب میں آزاد ہوںتیرے ہی عشق کی ہے یہ کراماتآنکھوں میں تیرا ہی نور بھر گیامیں تو خود سے ہی بے خبر ہو گیا
مستی میں ڈوبا ہے یہ جہاں ساراتیرا ہی عکس ہے، تو ہی ہے پیاراروح کی پیاس ہے، تو ہی ہے دریاتجھ سے ہی روشن ہے یہ گوشہ تنہامستی میں ڈوبا ہے یہ جہاں سارا
ہائے رے، ہائے رے، تیرا ہی جلوہدل کا سکون، تو ہی ہے میرا پہلوتُو ہی تو ہے، تُو ہی تو ہےعشقِ حقیقی، تُو ہی تو ہے
خودی کو جو توڑے، وہی پائے گاتیری ہی بستی میں وہ آئے گامٹ جائے گی جب یہ انا کی دیوارتبھی تو تجھے اپنا بنائے گامیں نے پکارا، تجھے ہی پکاراآ جا او میرے دل کے سہارا
تجھ میں گم، تجھ میں گمتجھ میں گم، اب میں ہوںتجھ میں گم، تجھ میں گمتجھ میں گم، اب میں ہوںتیرے ہی رنگ میں، رنگ گیا ہوں میںتیرے ہی رنگ میں، رنگ گیا ہوں میں
مستی میں ڈوبا ہے یہ جہاں ساراتیرا ہی عکس ہے، تو ہی ہے پیاراروح کی پیاس ہے، تو ہی ہے دریاتجھ سے ہی روشن ہے یہ گوشہ تنہامستی میں ڈوبا ہے یہ جہاں سارا
تیرا ہی نام، میری زبان پرتیرے ہی سجدے، میری جان پرکچھ نہیں باقی، اب کچھ نہیں باقیصرف تو ہی ہے، صرف تو ہی ہے
مستی میں ڈوبا...تجھ میں ہی گم ہوں...اب میں نہیں ہوں...بس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...
مستی کا دریا
مست راہی
Preview