یادوں کی بھٹی
دلربا قاسمی
غزل
About
یہ غزل ایک گہرا اور جذباتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا حسین امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے شاعر کے درد اور تنہائی کو انتہائی نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹیں ہیں ابھیدل میں کچھ پرانی یادیں ہیں ابھی
کبھی جو ہم نے کی تھیں باتیں وہ اب بھی یاد آتی ہیںتیرے بن زندگی کی راتیں اب بھی یاد آتی ہیںوہ تیرا مسکرا کر دیکھنا اور پھر نظر چراناوہ میری چھوٹی چھوٹی ضدیں اب بھی یاد آتی ہیں
کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں
خزاں کے موسم میں بھی پھول ہم نے کھلتے دیکھے تھےتیری دہلیز پر ہی ہم نے اپنے گھر دیکھے تھےمگر یہ وقت کی رفتار جانے کیا دکھا دے گیوہ جو عہدِ وفا تھے ہم نے ٹوٹتے دیکھے تھے
کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں
میں اپنے آپ سے ہی آج کل خفا رہتا ہوںتیرے نام کا ہی ورد میں صبح و شام کرتا ہوںیہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتیمیں خود کو تیری یادوں کی بھٹی میں جلاتا ہوں
کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں
کوئی تو ہو جو اس ویرانے میں میرا ساتھ دےتیرے سوا اب کون ہے جو میرے زخموں کو بھر دےوہ جو کہی تھیں باتیں ہم نے ستاروں کی چھاؤں میںاب تو صرف تنہائی ہی مجھے اپنا نام لے کر پکارے
کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں
اب تو بس تیرا ہی انتظار باقی ہےتیرے بنا جیون ایک ادھوری کہانی ہےتیرے آنے کی آہٹیں ہیں ابھیدل میں کچھ پرانی یادیں ہیں ابھی
یادوں کی بھٹی
دلربا قاسمی
Preview