Skip to content
یادوں کی بھٹی
Duration4:11

یادوں کی بھٹی

دلربا قاسمی

غزل

About

یہ غزل ایک گہرا اور جذباتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا حسین امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے شاعر کے درد اور تنہائی کو انتہائی نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

Lyrics

Intro

تیرے آنے کی آہٹیں ہیں ابھیدل میں کچھ پرانی یادیں ہیں ابھی

Verse 1

کبھی جو ہم نے کی تھیں باتیں وہ اب بھی یاد آتی ہیںتیرے بن زندگی کی راتیں اب بھی یاد آتی ہیںوہ تیرا مسکرا کر دیکھنا اور پھر نظر چراناوہ میری چھوٹی چھوٹی ضدیں اب بھی یاد آتی ہیں

Refrain

کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں

Verse 2

خزاں کے موسم میں بھی پھول ہم نے کھلتے دیکھے تھےتیری دہلیز پر ہی ہم نے اپنے گھر دیکھے تھےمگر یہ وقت کی رفتار جانے کیا دکھا دے گیوہ جو عہدِ وفا تھے ہم نے ٹوٹتے دیکھے تھے

Refrain

کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں

Instrumental-break
Verse 3

میں اپنے آپ سے ہی آج کل خفا رہتا ہوںتیرے نام کا ہی ورد میں صبح و شام کرتا ہوںیہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتیمیں خود کو تیری یادوں کی بھٹی میں جلاتا ہوں

Refrain

کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں

Verse 4

کوئی تو ہو جو اس ویرانے میں میرا ساتھ دےتیرے سوا اب کون ہے جو میرے زخموں کو بھر دےوہ جو کہی تھیں باتیں ہم نے ستاروں کی چھاؤں میںاب تو صرف تنہائی ہی مجھے اپنا نام لے کر پکارے

Refrain

کیسی یہ دوری ہے جو مٹتی نہیںتیرے سوا کوئی اور ملتا نہیںآنکھوں میں تیرے خوابوں کا بسیرا ہےتیرے بن اب کوئی راستہ نہیں

Outro

اب تو بس تیرا ہی انتظار باقی ہےتیرے بنا جیون ایک ادھوری کہانی ہےتیرے آنے کی آہٹیں ہیں ابھیدل میں کچھ پرانی یادیں ہیں ابھی

یادوں کی بھٹی

دلربا قاسمی

Preview

یادوں کی بھٹی by دلربا قاسمی | EchoLoRA: Generate a Song with AI