Skip to content
دلِ مضطر کی داستاں
Duration3:20

دلِ مضطر کی داستاں

سائلِ دہلیز

غزل (Ghazal)

About

یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور vocal-centered-mix ہے جس میں harmonium-melody-line کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گانے کے دوران tabla-rhythm-pattern کا استعمال ایک کلاسیکی اور پرسکون ماحول پیدا کرتا ہے جو سامعین کو اندرونی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

دل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب تکتیری یادوں کا میرے گھر میں مکاں ہے اب تک

verse

وہ جو اک پل کی ملاقات تھی، اک عمر بنیمیری آنکھوں میں تیری دید کا سماں ہے اب تکمیں نے چاہا تھا کہ بھولوں تیری باتوں کو مگرمیری سانسوں میں تیرے نام کی اماں ہے اب تک

refrain

تیری دہلیز پہ ٹھہرا ہوا ایک سائل ہوںمیری قسمت میں فقط تیرے ہی نشاں ہے اب تک

verse

وقت کی دھول نے چہروں کو مٹا ہی ڈالاپر ترے شہر کی گلیوں میں گماں ہے اب تکہم تو مٹ جائیں گے اک روز زمانے سے مگرمیری تحریر میں تیری ہی داستاں ہے اب تک

outro

خاموشیوں کے سوا اب کوئی ہم نوا نہیںدلِ مضطر میں تیرے پیار کا کارواں ہے اب تک

دلِ مضطر کی داستاں

سائلِ دہلیز

Preview

دلِ مضطر کی داستاں by سائلِ دہلیز | EchoLoRA: Generate a Song with AI