دلِ مضطر کی داستاں
سائلِ دہلیز
غزل (Ghazal)
About
یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور vocal-centered-mix ہے جس میں harmonium-melody-line کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گانے کے دوران tabla-rhythm-pattern کا استعمال ایک کلاسیکی اور پرسکون ماحول پیدا کرتا ہے جو سامعین کو اندرونی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
دل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب تکتیری یادوں کا میرے گھر میں مکاں ہے اب تک
وہ جو اک پل کی ملاقات تھی، اک عمر بنیمیری آنکھوں میں تیری دید کا سماں ہے اب تکمیں نے چاہا تھا کہ بھولوں تیری باتوں کو مگرمیری سانسوں میں تیرے نام کی اماں ہے اب تک
تیری دہلیز پہ ٹھہرا ہوا ایک سائل ہوںمیری قسمت میں فقط تیرے ہی نشاں ہے اب تک
وقت کی دھول نے چہروں کو مٹا ہی ڈالاپر ترے شہر کی گلیوں میں گماں ہے اب تکہم تو مٹ جائیں گے اک روز زمانے سے مگرمیری تحریر میں تیری ہی داستاں ہے اب تک
خاموشیوں کے سوا اب کوئی ہم نوا نہیںدلِ مضطر میں تیرے پیار کا کارواں ہے اب تک
دلِ مضطر کی داستاں
سائلِ دہلیز
Preview