ہجر کا ملبہ
عرفان شبیر
غزل
About
یہ غزل ایک گہرے جذباتی تجربے کا احاطہ کرتی ہے جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلے کی روایتی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس ووکل سینٹرڈ مکس میں گلوکاری کے اتار چڑھاؤ کو نمایاں رکھا گیا ہے تاکہ شاعری کی باریکیوں اور تنہائی کے احساس کو مکمل طور پر محسوس کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہکتا ہےتمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ چمکتا ہےمیں اپنی ذات میں کتنا اکیلا ہوں مگر دیکھوتمہاری یاد کا سورج میرے اندر دھڑکتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیمیرے سینے میں ہر لمحہ یہ بن کر زخم سلگتا ہےتمہارے ہجر کی راتیں کٹی ہیں گنتے گنتے ہیتمہارے نام پر اب تو یہ جی بھی یوں بہکتا ہے
وہ جو وعدے کیے تھے ہم نے بارش کے کناروں پروہ کاغذ کی طرح پانی میں اب تک تو تیرتا ہےتمہیں پانے کی خواہش میں خود کو کھو دیا میں نےمگر اب بھی یہ پاگل دل فقط تیرا ہی رستا ہے
نصیبوں کی لکیروں میں کہیں تم ہو نہیں شایدمگر یہ عشق تو ضد ہے کہ بس تم ہی سے ہوتا ہےکبھی ملنا تو کہنا ان ستاروں سے حقیقت کیاکہ تنہائی کا یہ قصہ کہاں جا کر یہ رکتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیمیرے سینے میں ہر لمحہ یہ بن کر زخم سلگتا ہےتمہارے ہجر کی راتیں کٹی ہیں گنتے گنتے ہیتمہارے نام پر اب تو یہ جی بھی یوں بہکتا ہے
تمہاری خامشی بھی گفتگو لگتی ہے دنیا کومگر میں جانتا ہوں اس میں کیا کچھ ٹوٹتا ہےکبھی آؤ تو دیکھو گے میرے کمرے کی حالت کیاتمہاری یاد کا ملبہ کہاں تک اب بکھرتا ہے
میں اک ایسا مسافر ہوں جو اپنی ہی گلی میں ہےبھٹکتا ہوں تو لگتا ہے کہ راستہ اب بدلتا ہےخدا جانے یہ کیسا امتحاں ہے عشق کا ہمدمکہ جو جینے کی خواہش ہے وہ مرنے پر اترتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیمیرے سینے میں ہر لمحہ یہ بن کر زخم سلگتا ہےتمہارے ہجر کی راتیں کٹی ہیں گنتے گنتے ہیتمہارے نام پر اب تو یہ جی بھی یوں بہکتا ہے
بس اک تم ہو جو دل میں آج بھی آباد رہتے ہوتمہارے بغیر تو ہر سانس کا بوجھ بھی کھٹکتا ہےتمہارے بغیر تو ہر سانس کا بوجھ بھی کھٹکتا ہے
ہجر کا ملبہ
عرفان شبیر
Preview