Skip to content
Duration5:00

سایہِ تنہائی

راشد ظمیر

پاکستانی فلمی موسیقی

About

ایک جذباتی اور سنیماٹک کمپوزیشن جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کا امتزاج جدید سٹرنگ آرکسٹریشن کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ گیت تنہائی اور جدائی کے درد کو ایک پروقار اور دلگداز انداز میں پیش کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تنہائیوں کے شہر میںاک خواب کا سایا ہےدل کی ویران گلیوں میںکون یہ پھر آیا ہے

verse 1

تیری یادوں کی دستک نےدروازہ دل کا کھولا ہےمیں نے چھپ کر زمانے سےتیرا ہی نام بولا ہےیہ کیسی کشمکش ہے ابکہ خود سے ہی میں دور ہوںمیں اپنے ہی خیالوں میںکسی بکھرے ہوئے نور ہوں

pre-chorus

آنکھوں میں نمی سی ہےسانسوں میں تھمی سی ہےتیرے بن یہ زندگیجیسے کوئی بے نام کہانی ہو

chorus

آ جا کہ اب تو شامِ غم ڈھلنے کو آئی ہےمیری روح نے بس تیری ہی تصویر بنائی ہےتیرے بن جینا اب اک سزا سا لگتا ہےمیری ہر دھڑکن میں بس تیری جدائی ہے

verse 2

وہ باتیں، وہ ہنسنا، وہساون کا پہلا برسناتیرے ساتھ گزرا ہر پلجیسے پھولوں کا کھلنااب تو دیواریں بھی جیسےمیرا حال پوچھتی ہیںتیری تصویریں مجھ سےکچھ سوال پوچھتی ہیں

pre-chorus

خوابوں کی بستی میںیادوں کی مستی میںتیرے بن یہ زندگیجیسے کوئی بے نام کہانی ہو

chorus

آ جا کہ اب تو شامِ غم ڈھلنے کو آئی ہےمیری روح نے بس تیری ہی تصویر بنائی ہےتیرے بن جینا اب اک سزا سا لگتا ہےمیری ہر دھڑکن میں بس تیری جدائی ہے

bridge

فاصلے بڑھ گئے ہیں اس قدرکہ اب تو خود سے بھی میں بیگانہ ہوںتلاشِ حق میں نکلا تھا کبھیاب خود ہی اک ایسا افسانہ ہوںیہ جو رستے ہیں، یہ جو موڑ ہیںسب تیری ہی طرف لے جاتے ہیںمیری تنہائی کے یہ سب شور ہیںجو بس تیرا نام ہی گنگناتے ہیں

instrumental-break
verse 3

کبھی تو لوٹ کر آناانہی راہوں پہ پھر سےمیرے بکھرے ہوئے خوابوں کوسجا جانا پھر سےمیں منتظر ہوں تیریاک دیے کی لو کی طرحتیرے انتظار میں جل رہا ہوںمیں شب بھر کی طرح

chorus

آ جا کہ اب تو شامِ غم ڈھلنے کو آئی ہےمیری روح نے بس تیری ہی تصویر بنائی ہےتیرے بن جینا اب اک سزا سا لگتا ہےمیری ہر دھڑکن میں بس تیری جدائی ہے

outro

بس تیری جدائی ہےبس تیری ہی یاد ہےدل کی اس ویرانی میںبس تیری ہی فریاد ہےآ جا...بس آ جا...

سایہِ تنہائی

راشد ظمیر

Preview

سایہِ تنہائی by راشد ظمیر | EchoLoRA: Generate a Song with AI