سایہِ تنہائی
راشد ظمیر
پاکستانی فلمی موسیقی
About
ایک جذباتی اور سنیماٹک کمپوزیشن جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کا امتزاج جدید سٹرنگ آرکسٹریشن کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ گیت تنہائی اور جدائی کے درد کو ایک پروقار اور دلگداز انداز میں پیش کرتا ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کے شہر میںاک خواب کا سایا ہےدل کی ویران گلیوں میںکون یہ پھر آیا ہے
تیری یادوں کی دستک نےدروازہ دل کا کھولا ہےمیں نے چھپ کر زمانے سےتیرا ہی نام بولا ہےیہ کیسی کشمکش ہے ابکہ خود سے ہی میں دور ہوںمیں اپنے ہی خیالوں میںکسی بکھرے ہوئے نور ہوں
آنکھوں میں نمی سی ہےسانسوں میں تھمی سی ہےتیرے بن یہ زندگیجیسے کوئی بے نام کہانی ہو
آ جا کہ اب تو شامِ غم ڈھلنے کو آئی ہےمیری روح نے بس تیری ہی تصویر بنائی ہےتیرے بن جینا اب اک سزا سا لگتا ہےمیری ہر دھڑکن میں بس تیری جدائی ہے
وہ باتیں، وہ ہنسنا، وہساون کا پہلا برسناتیرے ساتھ گزرا ہر پلجیسے پھولوں کا کھلنااب تو دیواریں بھی جیسےمیرا حال پوچھتی ہیںتیری تصویریں مجھ سےکچھ سوال پوچھتی ہیں
خوابوں کی بستی میںیادوں کی مستی میںتیرے بن یہ زندگیجیسے کوئی بے نام کہانی ہو
آ جا کہ اب تو شامِ غم ڈھلنے کو آئی ہےمیری روح نے بس تیری ہی تصویر بنائی ہےتیرے بن جینا اب اک سزا سا لگتا ہےمیری ہر دھڑکن میں بس تیری جدائی ہے
فاصلے بڑھ گئے ہیں اس قدرکہ اب تو خود سے بھی میں بیگانہ ہوںتلاشِ حق میں نکلا تھا کبھیاب خود ہی اک ایسا افسانہ ہوںیہ جو رستے ہیں، یہ جو موڑ ہیںسب تیری ہی طرف لے جاتے ہیںمیری تنہائی کے یہ سب شور ہیںجو بس تیرا نام ہی گنگناتے ہیں
کبھی تو لوٹ کر آناانہی راہوں پہ پھر سےمیرے بکھرے ہوئے خوابوں کوسجا جانا پھر سےمیں منتظر ہوں تیریاک دیے کی لو کی طرحتیرے انتظار میں جل رہا ہوںمیں شب بھر کی طرح
آ جا کہ اب تو شامِ غم ڈھلنے کو آئی ہےمیری روح نے بس تیری ہی تصویر بنائی ہےتیرے بن جینا اب اک سزا سا لگتا ہےمیری ہر دھڑکن میں بس تیری جدائی ہے
بس تیری جدائی ہےبس تیری ہی یاد ہےدل کی اس ویرانی میںبس تیری ہی فریاد ہےآ جا...بس آ جا...
سایہِ تنہائی
راشد ظمیر
Preview