دریاِ الفتِ مصطفیٰ
فیضانِ مدینہ
Naat
About
ایک روحانی نعت جو ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی دھیمی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں گلوکاری کا انداز انتہائی پرکشش اور جذباتی ہے، جس میں صوتی اتار چڑھاؤ (melismatic vocal phrasing) کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔
Lyrics
ذکرِ نبی سے روشن، میرا ہر اک لمحہ ہےقلبِ حزیں میں ان کی، الفت کا اک دریا ہے
مدت ہوئی ہے ان کی، چوکھٹ کے ہم گدا ہیںخوابوں میں بس انہی کے، چہرے کا ہی اجالا ہےتڑپتی ہے یہ روح، دیدارِ مصطفیٰ کے لیےان کے در کی گلیوں میں، سکون ہی سکون پایا ہے
یا نبی، آپ کی محبت میں، جینے کا مزہ آیاآپ کی ذاتِ پاک نے، دنیا کو نور بخشا ہےآپ کا نام لیتے ہی، آنکھوں میں نمی سی ہےقلبِ مضطرب کو بس، آپ کا ہی سہارا ہے
وہ رحمتِ دو عالم، وہ فخرِ آدمیت ہیںان کے قدموں کی دھول، آنکھوں کا ہی سرمہ ہےکیسی کشش ہے ان کی، ہر سانس میں وہ بسے ہیںدرود و سلام ان پر، جن سے یہ جہاں مہکا ہے
یا نبی، آپ کی محبت میں، جینے کا مزہ آیاآپ کی ذاتِ پاک نے، دنیا کو نور بخشا ہےآپ کا نام لیتے ہی، آنکھوں میں نمی سی ہےقلبِ مضطرب کو بس، آپ کا ہی سہارا ہے
نامِ محمدؐ لبوں پر، اب تو یہی دعا ہےان کے قدموں میں مرنا، بس یہی مدعا ہےبس یہی مدعا ہے، بس یہی مدعا ہے
دریاِ الفتِ مصطفیٰ
فیضانِ مدینہ
Preview