Skip to content
Duration3:06

ذات کا حصار

روحانی صوفی

قوالی فیوژن

About

یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، پرجوش تالیوں کی گونج، اور روح کو چھو لینے والی ووکل امپرووائزیشن شامل ہے جو ایک روحانی اور توانائی بخش تجربہ فراہم کرتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں میںتیرے رنگ میں رنگا ہوں میںنہ کوئی منزل نہ کوئی نشانبس تیری جستجو میں کھویا ہوں میں

verse

خود سے جو ملنا تھا تو خود کو مٹانا پڑاتیری گلی میں آ کے اپنا ہی گھر جلانا پڑایہ کیسی آگ ہے جو بجھ کے بھی دہکتی ہےبھروسے کے دیے کو پھر سے جلانا پڑا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میری پکارتیرے عشق میں ڈوب کے پایا ہے سچا پیارمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری روح کا مسکن، میرا پروردگار

vocal improvisation

ہائے رے، ہائے رے، تجھ سے ہے میری ہستیتیرے بن خالی ہے یہ کائنات، یہ بستیسجدوں میں ڈھونڈتا ہوں، آنکھوں میں پا لیامیری رگ رگ میں بکھری ہے تیری مستی

verse

ذات کے حصاروں سے نکل کے دیکھا توہر طرف تیرا ہی جلوہ نظر آیا مجھ کونہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہ رہا باقیتیری ہی روشنی میں خود کو پایا ہے مجھ کو

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میری پکارتیرے عشق میں ڈوب کے پایا ہے سچا پیارمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری روح کا مسکن، میرا پروردگار

drop

سب کچھ تیرا، سب کچھ تیرامیں تو بس ایک خواب ہوں تیراسب کچھ تیرا، سب کچھ تیرامیں تو بس ایک خواب ہوں تیرا

vocal improvisation

دھیان تیرا، نام تیراخالی ہاتھ، کام تیرامٹ گیا میں، بن گیا تواب تو بس، بس تو ہی تو

outro

خاموشی میں بھی اب تیرا ہی ذکر ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی فکر ہےتو ہی تھا، تو ہی ہے، تو ہی رہے گامیری روح کا اب بس یہی شکر ہےبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے...

ذات کا حصار

روحانی صوفی

Preview

ذات کا حصار by روحانی صوفی | EchoLoRA: Generate a Song with AI