تیرے نام سے سانس کا سفر
ضیاءِ عشق
Hamd
About
ایک روحانی حمد جو روایتی ہارمونیم کی دھن اور طبلہ کی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس گانے میں آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس میں صوفیانہ لہجے اور پرسکون سازوں کے ذریعے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی گئی ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ہی ذات ہے جس سے روشن ہے یہ سحراے مالکِ کل، اے خالقِ بے مثال و بے خبرتیری رحمتوں کا سایہ ہے مجھ پر عمر بھر
ذرے ذرے میں تیری شان کا اظہار ہےہر ایک پھول میں تیرا ہی حسنِ گلزار ہےیہ جو گردشِ لیل و نہار ہے تیرے حکم سےتیری ہی مٹھی میں کائنات کا سارا وقار ہےمیں کیا ہوں؟ بس ایک خاک کا ذرہ تیری راہ میںتیری ہی عنایت سے قائم میرا سارا کاروبار ہے
تیرے در کا سوالی ہوں، تیرے ہی سامنے جھکا ہوںمیں تیری ہی حمد کے گیتوں میں کھویا ہوا ہوںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخر، تو ہی باطن و ظاہرمیں تیرے ہی نور کی تلاش میں بکھرا ہوا ہوں
کوئی مانگے دولت، کوئی مانگے جہاں کی خوشیاںمیری عرض تو بس یہ ہے کہ مل جائے تیری رضاتیری کرم نوازیوں کا نہیں کوئی بھی ٹھکانہمیری خطاؤں کو ڈھانپ لے اے میرے خداتو ہی ہے میرا سہارا، تو ہی میری پناہ گاہتیرے سوا اس دل کو کہاں ملے سکونِ جاں
تیرے در کا سوالی ہوں، تیرے ہی سامنے جھکا ہوںمیں تیری ہی حمد کے گیتوں میں کھویا ہوا ہوںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخر، تو ہی باطن و ظاہرمیں تیرے ہی نور کی تلاش میں بکھرا ہوا ہوں
تیری حمد میں لب خاموش، دل میں اک شور ہےتیرے قرب کی جستجو ہی میرا اصل طور ہےاے میرے مالک، اے میرے رببس تیری ہی رضا، بس تیری ہی رضا...بس تیری ہی رضا...
تیرے نام سے سانس کا سفر
ضیاءِ عشق
Preview