رقصِ جاں
جذْبِ سماع
صوفی راک
About
یہ گیت صوفیانہ کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنیں الیکٹرک گٹار کی گہری ڈسٹورشن کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں۔ گائیکی کا انداز جذباتی اور بلند ہے جو روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، یہ کیا ہے ماجراخود سے ہی الجھی ہے میری ہر دعابکھرا ہوا ہوں ذات کے صحرا میںمل جائے مجھ کو اپنی ہی پتا
تلاشِ حق میں نکلا ہوں میں گھر سےنہیں ہے خوف اب کسی بھی ڈر سےمیں ایک قطرہ ہوں، سمندر میرا منتظرمٹا دے مجھ کو اب اپنی نظر سے
یہ رقصِ جاں ہے، یہ بندگی ہےخودی کا ٹوٹنا ہی تو زندگی ہے
مجھ میں ہی وہ، مجھ سے ہی وہہر سانس میں ہے بس ایک وہمیں آئینہ ہوں، وہ عکسِ کاملمٹا دے مجھ کو اب کر کے وہمجھ میں ہی وہ، مجھ سے ہی وہ
نہ مسجدیں، نہ مندروں کی قید ہےیہ عشق ہے، یہ محبت کی قید ہےخدا ملے گا تجھے تیرے ہی اندریہ دل ہی تو سجدہ گاہ کی قید ہے
میں فنا ہو جاؤں، تو بقا پاؤںمیں مٹا جاؤں، تو تجھ کو پا جاؤںنہ میں رہوں، نہ یہ جہاں رہےبس تیری ذات کا ہو ہر اک سجدہ
مجھ میں ہی وہ، مجھ سے ہی وہہر سانس میں ہے بس ایک وہمیں آئینہ ہوں، وہ عکسِ کاملمٹا دے مجھ کو اب کر کے وہ
خاموش ہوں، میں مدہوش ہوںمیں نہیں ہوں، بس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہے
رقصِ جاں
جذْبِ سماع
Preview