Skip to content
رقصِ جاں
Duration5:04

رقصِ جاں

جذْبِ سماع

صوفی راک

About

یہ گیت صوفیانہ کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنیں الیکٹرک گٹار کی گہری ڈسٹورشن کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں۔ گائیکی کا انداز جذباتی اور بلند ہے جو روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں کون ہوں، یہ کیا ہے ماجراخود سے ہی الجھی ہے میری ہر دعابکھرا ہوا ہوں ذات کے صحرا میںمل جائے مجھ کو اپنی ہی پتا

verse

تلاشِ حق میں نکلا ہوں میں گھر سےنہیں ہے خوف اب کسی بھی ڈر سےمیں ایک قطرہ ہوں، سمندر میرا منتظرمٹا دے مجھ کو اب اپنی نظر سے

pre-chorus

یہ رقصِ جاں ہے، یہ بندگی ہےخودی کا ٹوٹنا ہی تو زندگی ہے

chorus

مجھ میں ہی وہ، مجھ سے ہی وہہر سانس میں ہے بس ایک وہمیں آئینہ ہوں، وہ عکسِ کاملمٹا دے مجھ کو اب کر کے وہمجھ میں ہی وہ، مجھ سے ہی وہ

verse

نہ مسجدیں، نہ مندروں کی قید ہےیہ عشق ہے، یہ محبت کی قید ہےخدا ملے گا تجھے تیرے ہی اندریہ دل ہی تو سجدہ گاہ کی قید ہے

instrumental-solo
bridge

میں فنا ہو جاؤں، تو بقا پاؤںمیں مٹا جاؤں، تو تجھ کو پا جاؤںنہ میں رہوں، نہ یہ جہاں رہےبس تیری ذات کا ہو ہر اک سجدہ

chorus

مجھ میں ہی وہ، مجھ سے ہی وہہر سانس میں ہے بس ایک وہمیں آئینہ ہوں، وہ عکسِ کاملمٹا دے مجھ کو اب کر کے وہ

outro

خاموش ہوں، میں مدہوش ہوںمیں نہیں ہوں، بس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہے

رقصِ جاں

جذْبِ سماع

Preview