آپ کا نام ایمان ہو گیا
ناصر نبوی
Naat
About
یہ نعت ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گلوکار کی پرکشش اور پر سوز آواز میں استعمال ہونے والی پیچیدہ اور خوبصورت 'میلاسمیٹک' ادائیگی اس کلام کو ایک خاص روحانی وقار بخشتی ہے۔
Lyrics
دل کی بستی میں چراغاں ہو گیاآپ کا ذکر ہی درمان ہو گیامیری سوچوں کے ہر اک گوشے میںآپ کا نام ہی ایمان ہو گیا
مدتوں سے تھی یہ پیاس آنکھوں میںآپ کی یاد کا بادل برس جائےتیرے در کی مٹی کی خوشبو سےروح کا ہر اک ذرہ سنور جائےمیں بھٹکتا رہا اندھیروں میںآپ کی روشنی کا سایہ ملاجس نے بھی آپ کو پکارا ہےاس کو جینے کا سلیقہ ملا
یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ ہی سر جھکتا ہےآپ کا نام ہی سینے میں دھڑکتا ہےمیری ہر سانس میں ہے ذکرِ شہِ لولاکآپ کا عشق ہی تو میرا حق ہے
وہ جو رحمت بن کر آئے تھےہم نے ان کی پیاس کو پہچانادل کے ویرانوں میں اتر آئےآپ کا پیار ہی ہے ٹھکانہہم تو مٹی کے بنے پتلے ہیںآپ کی نسبت سے ہم سنورتے ہیںآپ کی سیرت کے انواروں سےہم تو جینے کا ہنر سیکھتے ہیں
یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ ہی سر جھکتا ہےآپ کا نام ہی سینے میں دھڑکتا ہےمیری ہر سانس میں ہے ذکرِ شہِ لولاکآپ کا عشق ہی تو میرا حق ہے
کوئی مانگے جہاں کی دولتہم نے مانگا ہے آپ کا دامنآپ کی نعتوں کے گلزاروں میںمہکتا رہے یہ میرا منجب بھی چلتی ہے ٹھنڈی ہواآپ کی یاد کا گماں ہوتا ہےآپ کی چوکھٹ کی دہلیز پرمیرا سجدہ ہی بیاں ہوتا ہے
یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ ہی سر جھکتا ہےآپ کا نام ہی سینے میں دھڑکتا ہےمیری ہر سانس میں ہے ذکرِ شہِ لولاکآپ کا عشق ہی تو میرا حق ہے
آپ کی یاد میں کٹ جائے یہ عمرِ رواںآپ کے نام پہ قربان ہو یہ جسم و جاںبس یہی ہے دعا، بس یہی ہے طلبآپ کا ساتھ ہو، آپ کا ہی جہاںآپ کا ہی جہاں...یا نبی، یا نبی...
آپ کا نام ایمان ہو گیا
ناصر نبوی
Preview