Skip to content
Duration3:37

مٹی کا قرض

آتشِ سندھ

پاکستانی ہپ ہاپ

About

یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی ستار کی دھنوں کا ایک طاقتور امتزاج ہے جو کراچی کی گلیوں کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اس میں بھاری 808 بیس لائنز کے ساتھ سماجی مسائل پر مبنی اردو ریپ کا گہرا اثر شامل ہے۔

Lyrics

intro

دھول اڑتی گلیوں میں، خوابوں کا کارواںسچ کی تلاش میں، نکلے ہیں ہم کہاںآنکھوں میں غصہ ہے، لبوں پہ ہے سوالبدلیں گے وقت کو، اب بدلیں گے ہم حال

verse

سیمنٹ کی دیواروں پہ لکھا ہے میرا نامکون سنے گا اب، یہ ٹوٹے ہوئے کامبھوکے پیٹ سوتے، یہاں خواب بکتے ہیںامیروں کے محلوں میں، غریب سسکتے ہیںمیری سوچ کا دائرہ، اب شہر سے باہر ہےسچ بولنا یہاں، سب سے بڑا کافر ہےمیری رگوں میں دوڑے، یہ مٹی کا پیارمیں لڑوں گا خود سے، میں لڑوں گا ہر بارپاؤں میں چھالے، مگر منزل پہ نظر ہےیہ میری ہمت، میری اپنی ہی سحر ہے

chorus

یہ شہر ہے ہمارا، یہ سڑکیں ہماری ہیںتکلیفیں پرانی، مگر کوششیں جاری ہیںہم جھکیں گے نہیں، ہم رکیں گے نہیںحق مانگنا گناہ، اب ہم یہ سنیں گے نہیںیہ مٹی پکارے، اب جاگ اٹھ اے نوجوانبدل دے یہ دنیا، تو بن اپنا ہی ترجمان

verse

ٹوٹے ہوئے تارے، اب آسمان پہ نہیںجو سچ بول دے، وہ کسی دکان پہ نہیںسیاہی میں لپٹی، یہ سیاست کی چالیںہم نے دیکھی ہیں، یہ سب کالی دیوالیںمیرا لہجہ ہے کڑوا، پر بات میں وزن ہےمیری خاموشی بھی، اب ایک نیا چلن ہےہم نے سیکھا ہے جینا، یہاں آگ کے دریا میںہم نے ڈھونڈا ہے راستہ، خود اپنی ہی دنیا میںنہ کوئی سہارا، نہ کوئی یہاں ہاتھ ہےبس میری ہمت، اور میرا یہ ساتھ ہے

bridge

اندھیرے مٹیں گے، یہ سورج نکلے گاہر ایک بندہ، اب خود ہی سنبھلے گاخون میں جوش ہے، اب رگوں میں روانی ہےیہ میری کہانی، یہ میری ہی زبانی ہےہم بدلیں گے، ہم بدلیں گے، ہم بدلیں گے!

chorus

یہ شہر ہے ہمارا، یہ سڑکیں ہماری ہیںتکلیفیں پرانی، مگر کوششیں جاری ہیںہم جھکیں گے نہیں، ہم رکیں گے نہیںحق مانگنا گناہ، اب ہم یہ سنیں گے نہیںیہ مٹی پکارے، اب جاگ اٹھ اے نوجوانبدل دے یہ دنیا، تو بن اپنا ہی ترجمان

outro

آواز اٹھا، اب وقت ہےخود کو پہچان، یہ تیرا حق ہےسڑکیں گواہ ہیں، ہم آئے تھےہم نے ہی تو، یہ خواب سجائے تھےجاگ اٹھ...اب وقت ہے...

مٹی کا قرض

آتشِ سندھ

Preview