مٹی کا قرض
آتشِ سندھ
پاکستانی ہپ ہاپ
About
یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی ستار کی دھنوں کا ایک طاقتور امتزاج ہے جو کراچی کی گلیوں کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اس میں بھاری 808 بیس لائنز کے ساتھ سماجی مسائل پر مبنی اردو ریپ کا گہرا اثر شامل ہے۔
Lyrics
دھول اڑتی گلیوں میں، خوابوں کا کارواںسچ کی تلاش میں، نکلے ہیں ہم کہاںآنکھوں میں غصہ ہے، لبوں پہ ہے سوالبدلیں گے وقت کو، اب بدلیں گے ہم حال
سیمنٹ کی دیواروں پہ لکھا ہے میرا نامکون سنے گا اب، یہ ٹوٹے ہوئے کامبھوکے پیٹ سوتے، یہاں خواب بکتے ہیںامیروں کے محلوں میں، غریب سسکتے ہیںمیری سوچ کا دائرہ، اب شہر سے باہر ہےسچ بولنا یہاں، سب سے بڑا کافر ہےمیری رگوں میں دوڑے، یہ مٹی کا پیارمیں لڑوں گا خود سے، میں لڑوں گا ہر بارپاؤں میں چھالے، مگر منزل پہ نظر ہےیہ میری ہمت، میری اپنی ہی سحر ہے
یہ شہر ہے ہمارا، یہ سڑکیں ہماری ہیںتکلیفیں پرانی، مگر کوششیں جاری ہیںہم جھکیں گے نہیں، ہم رکیں گے نہیںحق مانگنا گناہ، اب ہم یہ سنیں گے نہیںیہ مٹی پکارے، اب جاگ اٹھ اے نوجوانبدل دے یہ دنیا، تو بن اپنا ہی ترجمان
ٹوٹے ہوئے تارے، اب آسمان پہ نہیںجو سچ بول دے، وہ کسی دکان پہ نہیںسیاہی میں لپٹی، یہ سیاست کی چالیںہم نے دیکھی ہیں، یہ سب کالی دیوالیںمیرا لہجہ ہے کڑوا، پر بات میں وزن ہےمیری خاموشی بھی، اب ایک نیا چلن ہےہم نے سیکھا ہے جینا، یہاں آگ کے دریا میںہم نے ڈھونڈا ہے راستہ، خود اپنی ہی دنیا میںنہ کوئی سہارا، نہ کوئی یہاں ہاتھ ہےبس میری ہمت، اور میرا یہ ساتھ ہے
اندھیرے مٹیں گے، یہ سورج نکلے گاہر ایک بندہ، اب خود ہی سنبھلے گاخون میں جوش ہے، اب رگوں میں روانی ہےیہ میری کہانی، یہ میری ہی زبانی ہےہم بدلیں گے، ہم بدلیں گے، ہم بدلیں گے!
یہ شہر ہے ہمارا، یہ سڑکیں ہماری ہیںتکلیفیں پرانی، مگر کوششیں جاری ہیںہم جھکیں گے نہیں، ہم رکیں گے نہیںحق مانگنا گناہ، اب ہم یہ سنیں گے نہیںیہ مٹی پکارے، اب جاگ اٹھ اے نوجوانبدل دے یہ دنیا، تو بن اپنا ہی ترجمان
آواز اٹھا، اب وقت ہےخود کو پہچان، یہ تیرا حق ہےسڑکیں گواہ ہیں، ہم آئے تھےہم نے ہی تو، یہ خواب سجائے تھےجاگ اٹھ...اب وقت ہے...
مٹی کا قرض
آتشِ سندھ
Preview