وہی تو ہے
نورِ وحدت
قوالی فیوژن
About
یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جذباتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی گونج شامل ہے جو ایک روحانی اور توانائی سے بھرپور ماحول پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
میں ہوں، اور وہ ذات ہےخالی ہاتھ، پر بھرپور کائنات ہےتلاش اس کی، جو رگِ جاں میں ہےمیرا سب کچھ، اسی کے نام میں ہے
میں بھٹکتا رہا، خود کو ڈھونڈتا رہااپنی ہی ذات کے حصار میں، الجھتا رہاپھر ایک جھلک ملی، اس کے نور کیساری گرد چھٹ گئی، ہر ایک دور کینہ میں رہا، نہ میری کوئی پہچان رہیصرف اس کی محبت، میری جان رہی
وہ ہے، وہی تو ہےہر سمت، ہر طرف، وہی تو ہےمیری پکار میں، میری خاموشی میںمجھ سے جدا نہیں، وہ میری ہستی میںوہی تو ہے، وہی تو ہے
ہائے، ہائے، ہائے، وہیں ہے وہدل کے دریچے میں، وہیں ہے وہتیری جستجو، میری آرزوسجدہ ریز، تیری ہی بو
دنیا کے میلے، سب دھوکا لگےخدا کے سوا، سب کچھ پرایا لگےجو ٹوٹا، وہی تو سنورنے لگاقطرہ سمندر میں، اب اترنے لگانہ کوئی فاصلہ، نہ کوئی دیوار ہےیہ عشق نہیں، یہ تو پروردگار ہے
وہ ہے، وہی تو ہےہر سمت، ہر طرف، وہی تو ہےمیری پکار میں، میری خاموشی میںمجھ سے جدا نہیں، وہ میری ہستی میںوہی تو ہے، وہی تو ہے
سارا جہاں، اس کے اشارے پر ہےمیری سانس، اس کے سہارے پر ہےمٹ گیا میں، تو وہ نظر آیاخود کو کھو کر، تجھے ہی پایا
وہی تو ہےمیرے اندر، میرے باہروہی تو ہےصرف وہی، صرف وہیخاموشی میں، پکار میںوہی تو ہےوہی تو ہے
وہی تو ہے
نورِ وحدت
Preview