Skip to content
Duration4:25

وہی تو ہے

نورِ وحدت

قوالی فیوژن

About

یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جذباتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی گونج شامل ہے جو ایک روحانی اور توانائی سے بھرپور ماحول پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، اور وہ ذات ہےخالی ہاتھ، پر بھرپور کائنات ہےتلاش اس کی، جو رگِ جاں میں ہےمیرا سب کچھ، اسی کے نام میں ہے

verse

میں بھٹکتا رہا، خود کو ڈھونڈتا رہااپنی ہی ذات کے حصار میں، الجھتا رہاپھر ایک جھلک ملی، اس کے نور کیساری گرد چھٹ گئی، ہر ایک دور کینہ میں رہا، نہ میری کوئی پہچان رہیصرف اس کی محبت، میری جان رہی

chorus

وہ ہے، وہی تو ہےہر سمت، ہر طرف، وہی تو ہےمیری پکار میں، میری خاموشی میںمجھ سے جدا نہیں، وہ میری ہستی میںوہی تو ہے، وہی تو ہے

vocal improvisation

ہائے، ہائے، ہائے، وہیں ہے وہدل کے دریچے میں، وہیں ہے وہتیری جستجو، میری آرزوسجدہ ریز، تیری ہی بو

verse

دنیا کے میلے، سب دھوکا لگےخدا کے سوا، سب کچھ پرایا لگےجو ٹوٹا، وہی تو سنورنے لگاقطرہ سمندر میں، اب اترنے لگانہ کوئی فاصلہ، نہ کوئی دیوار ہےیہ عشق نہیں، یہ تو پروردگار ہے

chorus

وہ ہے، وہی تو ہےہر سمت، ہر طرف، وہی تو ہےمیری پکار میں، میری خاموشی میںمجھ سے جدا نہیں، وہ میری ہستی میںوہی تو ہے، وہی تو ہے

drop

سارا جہاں، اس کے اشارے پر ہےمیری سانس، اس کے سہارے پر ہےمٹ گیا میں، تو وہ نظر آیاخود کو کھو کر، تجھے ہی پایا

outro

وہی تو ہےمیرے اندر، میرے باہروہی تو ہےصرف وہی، صرف وہیخاموشی میں، پکار میںوہی تو ہےوہی تو ہے

وہی تو ہے

نورِ وحدت

Preview

وہی تو ہے by نورِ وحدت | EchoLoRA: Generate a Song with AI