بوند میں سمندر
آتشِ طلب
صوفی راک
About
یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور الیکٹرک گٹار کی گونج شامل ہے۔ گانے میں ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ شاعری پیش کی گئی ہے جو ایک روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہتیرے نام کا، تیرے کام کا، یہ واسطہ
اک بوند میں سمندر چھپایا ہوا ہےخود کو مٹا کر تجھے پایا ہوا ہےیہ سانسیں میری، تیری تسبیح بنی ہیںخوابوں میں بھی تیرا ہی سایہ ہوا ہے
آنکھیں جو کھولیں تو تجھ کو ہی دیکھادل کی دھڑکن میں تیرا ہی لکھا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری طلب میں جل گیا میرا یہ منمیں خاک ہوں، تیری ہستی کا نور ہوںمیں دور ہو کر بھی تجھ سے کتنا قریب ہوں
یہ دنیا کا قصہ، یہ پل دو پل کا میلہمیں تنہا نہیں، تو ہے میرے ساتھ اکیلاہر ذرے میں تیری تجلی کا پہرامیں راستہ بھٹکا، تو ہے میرا سویرا
آنکھیں جو کھولیں تو تجھ کو ہی دیکھادل کی دھڑکن میں تیرا ہی لکھا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری طلب میں جل گیا میرا یہ منمیں خاک ہوں، تیری ہستی کا نور ہوںمیں دور ہو کر بھی تجھ سے کتنا قریب ہوں
میں فنا ہوا تو بقا مل گئیمیری روح کو اب دعا مل گئینہ کوئی بندھن، نہ کوئی دیوار باقیبس تیری محبت، تیری پکار باقی
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری طلب میں جل گیا میرا یہ منمیں خاک ہوں، تیری ہستی کا نور ہوںمیں دور ہو کر بھی تجھ سے کتنا قریب ہوں
میں دور ہو کر بھی تجھ سے قریب ہوںمیں تجھ میں گم، میں عجیب ہوںبس تو ہی ہے، بس تو ہی ہےسب ختم ہوا، بس تو ہی ہے
بوند میں سمندر
آتشِ طلب
Preview