Skip to content
Duration5:01

بوند میں سمندر

آتشِ طلب

صوفی راک

About

یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور الیکٹرک گٹار کی گونج شامل ہے۔ گانے میں ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ شاعری پیش کی گئی ہے جو ایک روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہتیرے نام کا، تیرے کام کا، یہ واسطہ

verse

اک بوند میں سمندر چھپایا ہوا ہےخود کو مٹا کر تجھے پایا ہوا ہےیہ سانسیں میری، تیری تسبیح بنی ہیںخوابوں میں بھی تیرا ہی سایہ ہوا ہے

pre-chorus

آنکھیں جو کھولیں تو تجھ کو ہی دیکھادل کی دھڑکن میں تیرا ہی لکھا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری طلب میں جل گیا میرا یہ منمیں خاک ہوں، تیری ہستی کا نور ہوںمیں دور ہو کر بھی تجھ سے کتنا قریب ہوں

verse

یہ دنیا کا قصہ، یہ پل دو پل کا میلہمیں تنہا نہیں، تو ہے میرے ساتھ اکیلاہر ذرے میں تیری تجلی کا پہرامیں راستہ بھٹکا، تو ہے میرا سویرا

pre-chorus

آنکھیں جو کھولیں تو تجھ کو ہی دیکھادل کی دھڑکن میں تیرا ہی لکھا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری طلب میں جل گیا میرا یہ منمیں خاک ہوں، تیری ہستی کا نور ہوںمیں دور ہو کر بھی تجھ سے کتنا قریب ہوں

instrumental-solo
bridge

میں فنا ہوا تو بقا مل گئیمیری روح کو اب دعا مل گئینہ کوئی بندھن، نہ کوئی دیوار باقیبس تیری محبت، تیری پکار باقی

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری طلب میں جل گیا میرا یہ منمیں خاک ہوں، تیری ہستی کا نور ہوںمیں دور ہو کر بھی تجھ سے کتنا قریب ہوں

outro

میں دور ہو کر بھی تجھ سے قریب ہوںمیں تجھ میں گم، میں عجیب ہوںبس تو ہی ہے، بس تو ہی ہےسب ختم ہوا، بس تو ہی ہے

بوند میں سمندر

آتشِ طلب

Preview

بوند میں سمندر by آتشِ طلب | EchoLoRA: Generate a Song with AI