فنا کی دہلیز
مستانِ فنا
صوفی
About
ایک جذباتی صوفیانہ کلام جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلے کے پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے جو سامع کو روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں، اور میری ذات کا یہ سفرتلاشِ حق میں، مٹے سب خبر
درِ یار پر آ کے سر جھک گیاخودی کا ہر اک بت ہی ٹوٹ گیامیں ڈھونڈتا تھا جسے آئینے میںوہ میرے اندر ہی کہیں چھپ گیامٹ رہی ہے ہستی، بکھر رہی ہے انابس تیرا ہی نام، اب ہے میرا ٹھکانہ
تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری روح کی پیاس، تو ہی تو ہےقطرہ سمندر میں جا کے ملےمیری فنا میں، بقا تو ہی تو ہے
ہو، ہو، ہو، مستانہ، دیوانہتیری یاد کا، یہ سارا زمانہسب بھول گیا، سب مٹ گیابس ایک تو، بس ایک تو
یہ دنیا تو بس ایک خوابِ سرابحقیقت تیری، باقی سب ہے عذابمیں جل رہا ہوں تیری چاہت کی آگ میںمیرا ہر اک لمحہ، تیرا ہی انتخابدل کی دھڑکن میں، تیرا ہی شور ہےعشق کی وادی میں، اب کوئی اور ہے
تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری روح کی پیاس، تو ہی تو ہےقطرہ سمندر میں جا کے ملےمیری فنا میں، بقا تو ہی تو ہے
میں نہیں، میں نہیں، میں نہیں رہاتیری تجلی نے سب کچھ چھین لیاجو تھا میرا، وہ اب تیرا ہوامیں تو بس ایک خالی پیالہ ہوا
عشق کی آگ میں، خود کو جلا دوںاپنے وجود کو، تجھ میں مٹا دوںنہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہآ میں تجھے، خود میں بسا لوںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےہر ذرے میں، جلوہ تیرا ہی تو ہے
ہو، حق، حق، حقمیری سانسوں میں، تیرا ہی ذِکرمٹ گئی دوری، مٹ گئی فکرسب تو ہی، سب تو ہی
خاموش ہوں میں، اب کچھ نہ کہوںتیرے ہی رنگ میں، ہر پل رہوںبس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےتو ہی تو ہے
فنا کی دہلیز
مستانِ فنا
Preview