ذکرِ فنا و بقا
شمس الدین نوری
Qawwali
About
یہ کلام روحانی وجد اور عشقِ حقیقی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ہارمونیم کا گہرا سوز اور طبلے کی تیز تال شامل ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس گلوکاری اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک پرجوش ارتقاء پایا جاتا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری ہی عطا ہےتُو ہی ہے ابتدا، تُو ہی انتہا ہےمیری ہستی میں بس، تیرا ہی نقشِ پا ہے
میں تو بھٹکا ہوا، ایک مسافر تھا شب کاتیری دہلیز نے، مجھ کو راستہ دکھایاکبھی خود میں ڈھونڈا، کبھی باہر پکاراآخر کار میں نے، تجھ کو اپنے ہی اندر پایایہ کیسا نشہ ہے، جو رگ رگ میں اترامیں خود سے مٹا، تو تجھ کو ہی پایا
مستی میں ڈوبے، اب ہوش کہاں ہےتیرے جلووں کے سوا، کوئی نشان کہاں ہےعشق کی آگ میں، جل کے جو راکھ ہوئےاب اس راکھ میں بھی، تیرا ہی دھیان ہے
کبھی سجدوں میں رویا، کبھی تنہائیوں میںتیری یادوں کے موسم، میری انگنائیوں میںمیں تو مٹی کا پتلا، تو نورِ ازل ہےمیری بندگی بس، تیری رعنائیوں میںنہ کوئی سوال باقی، نہ کوئی ملال ہےتُو ہی تو شامل، میری ہر اک ادائیوں میں
ساقی پلائے، تو پینا کمال ہےتیری نظر کا، یہ کیسا جلال ہےنہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہبس تیرا ہی جلوہ، ہر ایک سوال ہےمیں فنا ہو کے بھی، زندہ ہوں تیرے لیےیہ کیسا عشق، یہ کیسا وصال ہے
تیرے رنگ میں رنگے، اب ہم کہاں رہےتیرے سنگ میں سنگے، اب غم کہاں رہےتُو ہی تو ہے، تُو ہی تو ہےذرہ ذرہ تیری، قدرت کا گواہ ہےقطرہ قطرہ تیری، رحمت کی راہ ہےتُو ہی ہے، تُو ہی ہے، تُو ہی ہے
مستی میں ڈوبے، اب ہوش کہاں ہےتیرے جلووں کے سوا، کوئی نشان کہاں ہےعشق کی آگ میں، جل کے جو راکھ ہوئےاب اس راکھ میں بھی، تیرا ہی دھیان ہے
تیرا ہی نام، میری زبان پرتیرا ہی عکس، میرے دھیان پراب تو آ جا، یا مجھے بلا لےمیں تو مٹ گیا، تیرے ہی جہان پرتیرے ہی جہان پر، تیرے ہی جہان پرصرف تُو، بس تُو، ہمیشہ تُو۔۔۔
ذکرِ فنا و بقا
شمس الدین نوری
Preview