مٹی کی صدا
غلامِ خاک
پاکستانی لوک موسیقی
About
یہ گیت مٹی کی خوشبو اور روایتی سازوں کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں ڈھول کی تھاپ اور رباب کی گونج کو مائیکرو ٹونل صوتی اتار چڑھاؤ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں نامیاتی پرکشن کی تہیں اور صوفیانہ شاعری کا گہرا اثر موجود ہے جو سننے والے کو ایک روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔
Lyrics
مٹی کی خوشبو سے اٹھتا ہے اک سوالکون ہے وہ جو دل کے اندر ہے بے حالسانسوں میں بسی ہے کوئی پرانی صداآج پھر یادوں کا بدل گیا ہے چال
گلیوں کی خاک چھانی، ڈھونڈا ہر ایک موڑتیرے ہی نام کا ہم نے توڑا ہے ہر توڑکچے دھاگے سے بندھی ہے میری یہ حیاتتو ہی تو ہے میرے دل کا واحد چھوڑ
فصلیں پکیں تو کسان نے گائے گیتمٹی کی کوکھ سے نکلے ہیں سارے پریتہاتھوں میں ہاتھ لیے چلتے ہیں ہم آجزمانے کو بتا دیں گے سچی اپنی جیت
او میرے سیاں، تیرے بن سونا ہے یہ جہاںتو ہی میری روح کی پیاس، تو ہی میری اماںتیرے عشق میں ڈوب کر ہم تو پار ہوئےتیری ہی دہلیز پہ ہے میرا سارا کارواں
رات کے پچھلے پہر جب ستارے جاگتے ہیںمیرے اندر کے سب درد کیوں بھاگتے ہیںتیری دی ہوئی ہر اذیت بھی اب ہے دعاتیری یادوں میں ہی ہم خود کو مانگتے ہیں
کبھی بھنگڑے کی دھمک، کبھی صوفی کی پکارتیری محبت میں کیا کچھ نہیں کیا نثارہم تو فقیر ہیں تیرے در کے اے دوستتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی ختم یہ تکرار
دل کی دھڑکن میں تیرا ہی شور ہےتیرے بغیر تو زندگی بھی اک زور ہےآ جا کہ تیری راہ تکتے تھک گئے ہیں ہمتیرے سوا اب کوئی اور نہ کوئی اور ہے
پرانے قصے، کہانیاں، سب تیرے نام کیےجو بھی زخم ملے، وہ تجھ سے ہی تو عام کیےیہ مٹی، یہ ہوا، یہ موسم، یہ بستیہم نے تو خود کو تیرے ہی نام سرعام کیے
او میرے سیاں، تیرے بن سونا ہے یہ جہاںتو ہی میری روح کی پیاس، تو ہی میری اماںتیرے عشق میں ڈوب کر ہم تو پار ہوئےتیری ہی دہلیز پہ ہے میرا سارا کارواں
خاموشیوں میں بس تیرا ہی ذکر رہےتیری محبت کا ہم پہ سدا کرم رہےچلتے رہیں گے یونہی تیری راہوں میں ہمجب تک یہ سانس، یہ مٹی، یہ بھرم رہےبس تیرا ہی ذکر رہےبس تیرا ہی ذکر رہے
مٹی کی صدا
غلامِ خاک
Preview