Skip to content
♪
Duration3:54

مٹی کی صدا

غلامِ خاک

پاکستانی لوک موسیقی

About

یہ گیت مٹی کی خوشبو اور روایتی سازوں کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں ڈھول کی تھاپ اور رباب کی گونج کو مائیکرو ٹونل صوتی اتار چڑھاؤ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں نامیاتی پرکشن کی تہیں اور صوفیانہ شاعری کا گہرا اثر موجود ہے جو سننے والے کو ایک روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

مٹی کی خوشبو سے اٹھتا ہے اک سوالکون ہے وہ جو دل کے اندر ہے بے حالسانسوں میں بسی ہے کوئی پرانی صداآج پھر یادوں کا بدل گیا ہے چال

verse

گلیوں کی خاک چھانی، ڈھونڈا ہر ایک موڑتیرے ہی نام کا ہم نے توڑا ہے ہر توڑکچے دھاگے سے بندھی ہے میری یہ حیاتتو ہی تو ہے میرے دل کا واحد چھوڑ

verse

فصلیں پکیں تو کسان نے گائے گیتمٹی کی کوکھ سے نکلے ہیں سارے پریتہاتھوں میں ہاتھ لیے چلتے ہیں ہم آجزمانے کو بتا دیں گے سچی اپنی جیت

instrumental-break
chorus

او میرے سیاں، تیرے بن سونا ہے یہ جہاںتو ہی میری روح کی پیاس، تو ہی میری اماںتیرے عشق میں ڈوب کر ہم تو پار ہوئےتیری ہی دہلیز پہ ہے میرا سارا کارواں

verse

رات کے پچھلے پہر جب ستارے جاگتے ہیںمیرے اندر کے سب درد کیوں بھاگتے ہیںتیری دی ہوئی ہر اذیت بھی اب ہے دعاتیری یادوں میں ہی ہم خود کو مانگتے ہیں

verse

کبھی بھنگڑے کی دھمک، کبھی صوفی کی پکارتیری محبت میں کیا کچھ نہیں کیا نثارہم تو فقیر ہیں تیرے در کے اے دوستتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی ختم یہ تکرار

instrumental-break
climax

دل کی دھڑکن میں تیرا ہی شور ہےتیرے بغیر تو زندگی بھی اک زور ہےآ جا کہ تیری راہ تکتے تھک گئے ہیں ہمتیرے سوا اب کوئی اور نہ کوئی اور ہے

bridge

پرانے قصے، کہانیاں، سب تیرے نام کیےجو بھی زخم ملے، وہ تجھ سے ہی تو عام کیےیہ مٹی، یہ ہوا، یہ موسم، یہ بستیہم نے تو خود کو تیرے ہی نام سرعام کیے

chorus

او میرے سیاں، تیرے بن سونا ہے یہ جہاںتو ہی میری روح کی پیاس، تو ہی میری اماںتیرے عشق میں ڈوب کر ہم تو پار ہوئےتیری ہی دہلیز پہ ہے میرا سارا کارواں

outro

خاموشیوں میں بس تیرا ہی ذکر رہےتیری محبت کا ہم پہ سدا کرم رہےچلتے رہیں گے یونہی تیری راہوں میں ہمجب تک یہ سانس، یہ مٹی، یہ بھرم رہےبس تیرا ہی ذکر رہےبس تیرا ہی ذکر رہے

مٹی کی صدا

غلامِ خاک

Preview