Skip to content
Duration4:15

سجدہِ روح

طالبِ حق قادری

Sufi

About

یہ کلام ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کا گہرا ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ اس میں صوفیانہ کیفیت کو اجاگر کرنے کے لیے جذباتی اور پرجوش آواز کا استعمال کیا گیا ہے جو سننے والے کو ایک روحانی وجد میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام کی لو جلی ہے اندرخالی ہے دل، تو بھر دے قلندرمیں بھٹکتا رہا، تیری دہلیز دیکھیاب آ کے ٹھہرا ہے میرا یہ مندر

verse

میں مٹی کا پتلا، تو روحِ رواں ہےمیری ہر سانس میں تیرا ہی نشاں ہےکبھی ڈھونڈا خود میں، کبھی باہر دیکھاتیرے عشق کا یہ عجیب سا دھواں ہےمیں راکھ ہوا، تو نے پل میں سنواراتیرے ہاتھ میں میری ہر اک زیاں ہے

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رےتیری طلب، میری پیاستو ہی تو، میرے پاسیا اللہ، یا اللہ

chorus

تو ہے تو میں ہوں، یہ کیسا ہے ناطہتجھ سے ہی جڑا ہے میرا ہر اک راستہمیں فنا ہو کے تجھ میں ہی پاؤں بقاتیرے در کا فقیر، تیرا ہی واسطہتیرا ہی واسطہ، تیرا ہی واسطہ

verse

میری ہستی کا ہر ایک ذرہ پکارےتیرے نور سے روشن ہیں سب یہ ستارےمیں نے توڑا ہے خود کو، تجھے پانے کی خاطراب تو آ جا، مٹا دے یہ سب خسارےتیری یادوں کے موسم ہیں دل میں اترتےتیرے عشق کے ہم ہیں اب تو ستارے

climax

میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری سوچ میں، میری ہر گفتگو ہےیہ حجابِ خودی اب اٹھا لے میرے مولاتیرے جلووں کی مجھ میں ہی جستجو ہےتیرے جلووں کی مجھ میں ہی جستجو ہے

chorus

تو ہے تو میں ہوں، یہ کیسا ہے ناطہتجھ سے ہی جڑا ہے میرا ہر اک راستہمیں فنا ہو کے تجھ میں ہی پاؤں بقاتیرے در کا فقیر، تیرا ہی واسطہتیرا ہی واسطہ، تیرا ہی واسطہ

outro

خاموشیاں ہیں، تیرا ہی نام ہےاب یہی زندگی، یہی میرا کام ہےتجھ میں ہی کھونا، تجھ میں ہی ہونایہ عشق کی انتہا، یہی میرا مقام ہےیہی میرا مقام ہےتجھ میں ہی کھونا، تجھ میں ہی ہونا...

سجدہِ روح

طالبِ حق قادری

Preview