صبحِ نو کا اعلان
سحر اور زنجیر
پاکستانی راک
About
یہ گانا پاکستانی راک کی روایتی روح کو جدید الیکٹرک گٹار اور طبلے کے امتزاج کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اس میں مشرقی سروں اور جذباتی شاعری کا استعمال کیا گیا ہے جو سماجی بیداری اور تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
Lyrics
دھوپ میں جلتی ہوئی یہ سڑکیںخاموش لبوں پر بکھری ہیں سسکیاںوقت کی قید میں، ہم نے کیا پایاصرف دھول اور یہ ادھورے خواب
بند کمروں میں حبس کا بسیرا ہےسچ بولنا اب جرم کا پہرا ہےمیری مٹھی میں کچھ راکھ جمی ہےمیری آنکھوں میں سوالوں کی نمی ہےدیواروں پر لکھی تحریر پڑھوان زنجیروں کی تقدیر پڑھو
شور ہے باہر، سناٹا اندرہم کیوں ہیں اب تک اتنے لاغرطوفان اٹھنے کی دیر ہے بسہر ذرہ بولے گا اب تو اب بس
یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ٹوٹے ہوئے، یہ خاک نہیںآواز اٹھاؤ، حد سے گزر جاؤدبے ہوئے جذبوں کو تم سنوار جاؤیہ وقت ہے اپنا، یہ عہد ہے اپناجاگ اٹھا ہے اب ہر سویا سپنا
پرانے محلوں کی دیواریں گر رہی ہیںنئی نسلیں اب سچائی پر مر رہی ہیںنہ کوئی ڈر، نہ کوئی اب تماشہبدل رہا ہے اب یہ سارا کا ساراسیاہی مٹے گی، روشنی آئے گییہ صبحِ نو اب ہم کو بلائے گی
کب تک ہم سہمے رہیں گے؟کب تک چپ چاپ سہتے رہیں گے؟اب وقت کا پہیہ گھوم چکا ہےہر خوف کا سایہ ٹوٹ چکا ہے
یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ٹوٹے ہوئے، یہ خاک نہیںآواز اٹھاؤ، حد سے گزر جاؤدبے ہوئے جذبوں کو تم سنوار جاؤیہ وقت ہے اپنا، یہ عہد ہے اپناجاگ اٹھا ہے اب ہر سویا سپنا
جاگ اٹھا ہے اب...ہر سویا سپنا...اب ہم نہیں رکیں گےاب ہم نہیں جھکیں گےصرف روشنی...صرف روشنی...
صبحِ نو کا اعلان
سحر اور زنجیر
Preview