خوابِ ناظر
ڈیجیٹل درویش
قوالی فیوژن
About
ایک جدید قوالی فیوژن ٹریک جس میں روایتی ہارمونیم اور طبلے کی تھاپ کو الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ یہ گیت روحانی شدت، تالیوں کی گونج اور صوفیانہ کلام کے ذریعے ایک گہرا جذباتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں اور میری تنہائی کا یہ سلسلہکیسے بیاں کروں دل کا یہ سارا معاملہوہ جو رگِ جاں سے بھی قریب ہےوہی تو میرا اصل نصیب ہے
در بدر ڈھونڈا تجھے، پایا نہ کہیںتیرے سوا کوئی بھی میرا نہیںمیں نے اپنے آپ کو مٹایا ہے اس طرحجیسے ساحل پہ لہروں کا کوئی نشاں نہیںیہ فنا کی راہ ہے، یہ بقا کا راستہتیری یادوں کے سوا میرا کوئی واسطہ نہیں
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں گم ہوںتیری طلب میں خود سے نادم ہوںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرمیں تو بس ایک خوابِ ناظر ہوں
کبھی آ کے دیکھ میرے دل کے ویرانے میںکتنے ہی طوفان چھپے ہیں اس فسانے میںمیں نے توڑا ہے ہر ایک بتِ خودی کاتیری محبت کی شمع جلانے کے بہانے میںیہ دنیا ہے ایک سرابِ بے رنگمیں تو تیرے رنگ میں رنگنے کا دیوانہ ہوں
ہائے رے وہ جلوہ، ہائے رے وہ نورمجھ سے دور ہو کر بھی، ہے تو کتنا قریبآ آ آ، تیرے عشق میں جل جاؤںآ آ آ، تیری ذات میں ڈھل جاؤں
نہ کوئی مسلک، نہ کوئی مذہب کا قیدمحبت ہی تو ہے میرا اصل عقیدہسب انسان برابر ہیں تیری نگاہ میںمیں نے تو یہی سچ ہے سیکھاتو ہی ہے حقیقت، باقی سب ہے فریبمیں تیری چوکھٹ کا ہوں ایک فقیر
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں گم ہوںتیری طلب میں خود سے نادم ہوںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرمیں تو بس ایک خوابِ ناظر ہوں
تیرے نام کی گونج ہے رگ رگ میںتیرے عشق کی آگ ہے ہر پل میںسب مٹ جائے گا، بس تو ہی رہے گایہ سچ ہے جو ہر ذرہ کہے گا
سجدوں کی تڑپ، آنسوؤں کی روانیمیں نے لکھی ہے اپنی یہ کہانیتیری دہلیز پر سر جھکا کرپائی ہے میں نے یہ زندگانیاب نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہتو ہی ہے میری روح کی ترجمانی
یا رب، یا رب، تیری پناہ میںسب کچھ ہے، تیری ہی چاہ میںوجد میں ہے دل، مست ہے روحتو ہی ہے مرہم، تو ہی ہے نوح
میں مٹ گیا، میں مٹ گیاتجھ میں ہی اب تو میں سمٹ گیابس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےخاموشی میں بھی تیرا ہی نام ہےمیرا سارا وجود تیرے ہی نام ہےتیرے ہی نام ہےتیرے ہی نام ہے
خوابِ ناظر
ڈیجیٹل درویش
Preview