مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لے
ذوالقرنین قوال اور ہمنوا
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون، تال پر مبنی تالیوں اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس آوازوں سے مزین ہے۔ اس ٹریک میں روحانی وجد اور صوفیانہ کیفیت کو نمایاں کیا گیا ہے جس میں طبلہ اور ڈھولک کا تال میل سامعین کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری ہی عطا ہےنظر اٹھاؤں تو تو، پلک جھپکوں تو تو ہیمیری ذات کا ہر لمحہ، تیری ہی فنا ہے
میں بھٹکتا رہا عمر بھر، خود کو ڈھونڈنے میںمگر پایا تجھے جب، میں نہ رہا اپنے ہونے میںیہ کیسا نشہ ہے، یہ کیسی کشش ہے مولاکہ سکون مل گیا ہے، تیرے نام کے رونے میں
آ، مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لےمیری ہستی کو اپنی ذات میں ڈھال لےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میرا کوزہ گر ہےمیری روح کو اپنے نور سے سنبھال لے
نہ کوئی مسافت، نہ کوئی فاصلہ باقی رہاتیرے جلووں نے دل کا ہر آئینہ صاف کیامیں تو قطرہ تھا، سمندر میں مل گیا ہوں ابتیرے عشق نے مجھے، خود سے ہی آزاد کیا
تیرے در پر، تیرے در پرمیری سانسوں کا پہرہ ہےتیرے در پر، تیرے در پرمیری آنکھوں میں تیرا چہرہ ہے
یہ دنیا فانی ہے، یہ رنگ و بو کا دھوکامیں نے تو بس تیرے عشق کا ہی جام پیانہ کوئی گلہ ہے، نہ کوئی شکوہ باقی رہاتیرے قرب میں جو ملا، وہ سب سے سوا دیا
حق! حق! حق! پکارتی ہے روح میریحق! حق! حق! سن لے پکار اے میرے مولیٰمیں مٹ رہا ہوں، تو ہی تو باقی رہے گاتیری ہی حمد میں، میری زندگی کا ہر لمحہ بسا
آ، مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لےمیری ہستی کو اپنی ذات میں ڈھال لےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میرا کوزہ گر ہےمیری روح کو اپنے نور سے سنبھال لے
نظر میں تو، خیال میں تو، میری ہر دھڑکن میں تومیں ڈھونڈتا رہا جسے باہر، وہ بسا ہے میرے اندریہ کیسا وصل ہے، یہ کیسی کیفیت ہے یاربکہ اب نہ کوئی مجھ میں ہے، نہ میں ہوں خود کے برابر
وجد میں ہے دل میرا، تیرے ہی ذکر سےنور برس رہا ہے، تیرے ہی فکر سےوجد میں ہے دل میرا، تیرے ہی ذکر سےنور برس رہا ہے، تیرے ہی فکر سے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری فنا ہی میری اصل، میری بقا ہےتیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےبس تو ہی، بس تو ہی، بس تو ہی میرا خدا ہے
مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لے
ذوالقرنین قوال اور ہمنوا
Preview