Skip to content
رازِ ہستی
Duration3:24

رازِ ہستی

استاد ساجد بشیر صوفی

قوالی

About

یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کے ساتھ جذباتی آواز کا امتزاج ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کا استعمال کیا گیا ہے جو ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہماپنے ہی وجود سے نکل گئے ہمکون ہے یہاں، کون ہے وہاںبس ایک تو ہے، باقی سب دھواں

verse

میں تو اک قطرہ تھا، دریا میں کھو گیاتیری یادوں کا جادو، دل میں سو گیامیں نے ڈھونڈا تھا خود کو، تیری گلیوں میںمیرا وجود تو بس، تیری ہی تالیوں میںنہ کوئی منزل باقی، نہ کوئی راستہتیرا ہی نام ہے، میرا واسطہ

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس رازِ ہستی کو، میں سمجھوںتیرے عشق میں، خود کو مٹا دوںتیری رضا میں، سب کچھ لٹا دوںتو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے

verse

کبھی مے خانے کی، دہلیز دیکھیکبھی تیرے نام کی، وہ میز دیکھیسب ڈھونڈتے ہیں تجھے، مسجد و مندر میںمیں نے تجھے پایا، اپنے ہی اندر میںآنکھیں بند کروں تو، تیرا چہرہ نظر آئےمیری روح کو، بس تیرا ہی گھر نظر آئے

improvisation

یا رب، تیرے بندے ہیں ہمتیری راہ کے، پرندے ہیں ہمنہ کوئی خوف، نہ کوئی غمبس تیری ہی جستجو، ہر دم

crescendo

عشق کی حد سے، آگے نکل جاؤںتیری ہی ذات میں، آ کے ڈھل جاؤںمٹا دے مجھے، اپنی چاہت میںجلا دے مجھے، اپنی عبادت میںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےسب کچھ تو ہی تو ہے

outro

خاموشیاں بولتی ہیں، تیرا نام لے کرہم تو آئے ہیں، سارا جہاں تھام لے کراب نہ کوئی دوری، اب نہ کوئی جدائیمیں تو ہو گیا ہوں، تیری ہی خدائیبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے

رازِ ہستی

استاد ساجد بشیر صوفی

Preview

رازِ ہستی by استاد ساجد بشیر صوفی | EchoLoRA: Generate a Song with AI