رازِ ہستی
استاد ساجد بشیر صوفی
قوالی
About
یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کے ساتھ جذباتی آواز کا امتزاج ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کا استعمال کیا گیا ہے جو ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہماپنے ہی وجود سے نکل گئے ہمکون ہے یہاں، کون ہے وہاںبس ایک تو ہے، باقی سب دھواں
میں تو اک قطرہ تھا، دریا میں کھو گیاتیری یادوں کا جادو، دل میں سو گیامیں نے ڈھونڈا تھا خود کو، تیری گلیوں میںمیرا وجود تو بس، تیری ہی تالیوں میںنہ کوئی منزل باقی، نہ کوئی راستہتیرا ہی نام ہے، میرا واسطہ
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس رازِ ہستی کو، میں سمجھوںتیرے عشق میں، خود کو مٹا دوںتیری رضا میں، سب کچھ لٹا دوںتو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے
کبھی مے خانے کی، دہلیز دیکھیکبھی تیرے نام کی، وہ میز دیکھیسب ڈھونڈتے ہیں تجھے، مسجد و مندر میںمیں نے تجھے پایا، اپنے ہی اندر میںآنکھیں بند کروں تو، تیرا چہرہ نظر آئےمیری روح کو، بس تیرا ہی گھر نظر آئے
یا رب، تیرے بندے ہیں ہمتیری راہ کے، پرندے ہیں ہمنہ کوئی خوف، نہ کوئی غمبس تیری ہی جستجو، ہر دم
عشق کی حد سے، آگے نکل جاؤںتیری ہی ذات میں، آ کے ڈھل جاؤںمٹا دے مجھے، اپنی چاہت میںجلا دے مجھے، اپنی عبادت میںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےسب کچھ تو ہی تو ہے
خاموشیاں بولتی ہیں، تیرا نام لے کرہم تو آئے ہیں، سارا جہاں تھام لے کراب نہ کوئی دوری، اب نہ کوئی جدائیمیں تو ہو گیا ہوں، تیری ہی خدائیبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے
رازِ ہستی
استاد ساجد بشیر صوفی
Preview