Skip to content
Duration4:16

ذات کا صحرا

نورِ فنا

صوفیانہ کلام

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا مستقل ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کرتا ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش آواز کے ساتھ انسانی روح کے خالق سے وصال کی تڑپ کو بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

میری ذات کے صحرا میںایک پیاس ہے جو جاگتی ہےتیری یاد کے سائے میںمیری روح اب بھاگتی ہے

verse

میں تو اک ذرہ ہوں تیرے در کاتیری ہی جستجو میری پہچان ہےتجھے پا کر خود کو کھو بیٹھا ہوںیہ کیسا عشق، کیسا یہ سامان ہےہر سانس میں تیرا ہی نام گونجےخاموشی میری اب تیرا ہی بیان ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی جانب میرا سفرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھر

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رےتیری طلب، میری جاںتو کہاں، میں کہاںبس تو ہی، بس تو ہی

verse

دنیا کے رشتے، سب سراب ٹھہرےتیری محبت ہی اصلِ حیات ہےجس نے تجھے پایا، اسے کیا خبرکہ کیا دن ہے اور کیا رات ہےمیرے وجود کی ہر بوند میںبس تیری ہی ذات کی برسات ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی جانب میرا سفرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھر

climax

میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تومیری ہستی کا ہر ذرہ تجھ میں شاملتیرے عشق کی آگ میں جل کرہو گیا ہے میرا ہر داغ کاملآ جا، آ جا، اب تو آ جامجھ میں سمٹ جا، اے میرے منزل

outro

خاموش ہوں اب، کہ تو بولتا ہےبند ہوں اب، کہ تو کھلتا ہےمیں مٹا تو تو ہی تو بچامیری روح میں تو ہی پلتا ہےتجھ میں گم، تجھ میں فناتجھ میں گم، تجھ میں فنا

ذات کا صحرا

نورِ فنا

Preview

ذات کا صحرا by نورِ فنا | EchoLoRA: Generate a Song with AI