ذات کا صحرا
نورِ فنا
صوفیانہ کلام
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا مستقل ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کرتا ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش آواز کے ساتھ انسانی روح کے خالق سے وصال کی تڑپ کو بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
میری ذات کے صحرا میںایک پیاس ہے جو جاگتی ہےتیری یاد کے سائے میںمیری روح اب بھاگتی ہے
میں تو اک ذرہ ہوں تیرے در کاتیری ہی جستجو میری پہچان ہےتجھے پا کر خود کو کھو بیٹھا ہوںیہ کیسا عشق، کیسا یہ سامان ہےہر سانس میں تیرا ہی نام گونجےخاموشی میری اب تیرا ہی بیان ہے
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی جانب میرا سفرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھر
ہائے رے، ہائے رےتیری طلب، میری جاںتو کہاں، میں کہاںبس تو ہی، بس تو ہی
دنیا کے رشتے، سب سراب ٹھہرےتیری محبت ہی اصلِ حیات ہےجس نے تجھے پایا، اسے کیا خبرکہ کیا دن ہے اور کیا رات ہےمیرے وجود کی ہر بوند میںبس تیری ہی ذات کی برسات ہے
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی جانب میرا سفرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھرتجھ میں گم، تجھ میں فنامٹ گیا ہے اب میرا یہ گھر
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تومیری ہستی کا ہر ذرہ تجھ میں شاملتیرے عشق کی آگ میں جل کرہو گیا ہے میرا ہر داغ کاملآ جا، آ جا، اب تو آ جامجھ میں سمٹ جا، اے میرے منزل
خاموش ہوں اب، کہ تو بولتا ہےبند ہوں اب، کہ تو کھلتا ہےمیں مٹا تو تو ہی تو بچامیری روح میں تو ہی پلتا ہےتجھ میں گم، تجھ میں فناتجھ میں گم، تجھ میں فنا
ذات کا صحرا
نورِ فنا
Preview