شہرِ فغاں
غلامِ فغاں
غزل
About
ایک کلاسیکی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے جذبات کی گہرائی اور شاعری کے ہر لفظ کو نمایاں کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور جذباتی سفر پر لے جاتی ہے۔
Lyrics
دل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب تکتیری یادوں کا میرے گھر میں مکاں ہے اب تک
وہ جو اک پل کی ملاقات تھی، اب یاد نہیںتیرے چہرے کا مگر مجھ پہ گماں ہے اب تکمیں نے چاہا تھا کہ بھولوں تیرا ہر نقش و نگارمیری آنکھوں میں تیرا عکسِ رواں ہے اب تک
تیرے بن جینے کا اب کوئی ہنر پاس نہیںاک ادھورا سا میرا شہرِ فغاں ہے اب تک
میں تو بکھرا ہوا اک رنگ ہوں صحراؤں کاتیری دہلیز پہ رکا ہوا کارواں ہے اب تکلوگ کہتے ہیں کہ بدل جاتے ہیں سب کے حالاتمیری سانسوں میں وہی دردِ نہاں ہے اب تک
تیرے بن جینے کا اب کوئی ہنر پاس نہیںاک ادھورا سا میرا شہرِ فغاں ہے اب تک
خاموشی بولتی ہے اب تو میرے ہر لفظ میںتیری چاہت کا یہی آخری بیاں ہے اب تک
شہرِ فغاں
غلامِ فغاں
Preview