Skip to content
شہرِ فغاں
Duration3:06

شہرِ فغاں

غلامِ فغاں

غزل

About

ایک کلاسیکی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے جذبات کی گہرائی اور شاعری کے ہر لفظ کو نمایاں کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور جذباتی سفر پر لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

دل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب تکتیری یادوں کا میرے گھر میں مکاں ہے اب تک

verse

وہ جو اک پل کی ملاقات تھی، اب یاد نہیںتیرے چہرے کا مگر مجھ پہ گماں ہے اب تکمیں نے چاہا تھا کہ بھولوں تیرا ہر نقش و نگارمیری آنکھوں میں تیرا عکسِ رواں ہے اب تک

refrain

تیرے بن جینے کا اب کوئی ہنر پاس نہیںاک ادھورا سا میرا شہرِ فغاں ہے اب تک

instrumental-break
verse

میں تو بکھرا ہوا اک رنگ ہوں صحراؤں کاتیری دہلیز پہ رکا ہوا کارواں ہے اب تکلوگ کہتے ہیں کہ بدل جاتے ہیں سب کے حالاتمیری سانسوں میں وہی دردِ نہاں ہے اب تک

refrain

تیرے بن جینے کا اب کوئی ہنر پاس نہیںاک ادھورا سا میرا شہرِ فغاں ہے اب تک

outro

خاموشی بولتی ہے اب تو میرے ہر لفظ میںتیری چاہت کا یہی آخری بیاں ہے اب تک

شہرِ فغاں

غلامِ فغاں

Preview

شہرِ فغاں by غلامِ فغاں | EchoLoRA: Generate a Song with AI