تیرے در کا سائلِ بے قرار
فنا کار قوال گروپ
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جس میں ہارمونیم کا گہرا ڈرون، تبلے کی تیز تھاپ، اور پرجوش تالیوں کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے کال اینڈ ریسپانس گلوکاری اور بتدریج بڑھتی ہوئی رفتار پر مبنی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری ہی عطا ہےدل کی بستی میں اب، تیری ہی بس صدا ہےمیں تو مٹا ہوا ہوں، بس تیری ہی بقا ہے
میں تو بھول بیٹھا تھا خود کو، جب سے تجھے پایاتیری الفت نے مجھ کو، ہر غم سے چھڑایاکوئی ڈھونڈے محلوں میں، کوئی ڈھونڈے صحرا میںمیں نے تیرے ہی قدموں میں، سارا جہاں پایاتیری یاد کی تپش ہے، میرے لہو میں رواںمیں تو فنا ہو گیا، تجھ میں ہی اب تو عیاں
تیرے عشق میں ڈوب کر، میں خود کو بھول گیاتیرے در کی چوکھٹ پر، میرا نصیب کھل گیاہو، میرا نصیب کھل گیاتیرے عشق میں ڈوب کر، میں خود کو بھول گیا
یہ جو ظاہری دنیا ہے، سراب کا ایک میلاکوئی نہ رہا یہاں، سب کا ہے دامن اکیلامیں نے تھام لیا دامن، تیرے کرم کا سائیںتیری ایک نظر کے صدقے، ہر درد ہوا ہیلاتیرے جلووں کی روشنی، میری آنکھوں کا نورتیرے بن تو جینا، جیسے جینا ہو دور
ہو، تیرے در کی گداگری، ہے میری شانہو، تیرے نام پر قربان، میری جانہو، تیرے در کی گداگری، ہے میری شانہو، تیرے نام پر قربان، میری جان
تجھ سے ہی آغاز ہے، تجھ سے ہی انجام ہےمیری ہر ایک سانس میں، تیرا ہی بس نام ہےمیرا کفر بھی تو ہے، میرا ایمان بھی تو ہےمیری صبح بھی تو ہے، میری شام بھی تو ہےمیں مٹا، میں مٹا، میں تجھ میں ہی مٹامیری ہستی کا اب، کوئی نہیں پتا
تیرے عشق میں ڈوب کر، میں خود کو بھول گیاتیرے در کی چوکھٹ پر، میرا نصیب کھل گیاہو، میرا نصیب کھل گیاتیرے عشق میں ڈوب کر، میں خود کو بھول گیا
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری روح کی پکار، بس تو ہی تو ہےتیرے در کی گداگری، میری شان ہےتیرے نام پر قربان، میری جان ہےجان ہے، جان ہے، بس تو ہی جان ہے
تیرے در کا سائلِ بے قرار
فنا کار قوال گروپ
Preview