عکسِ لاہوت
سرمَدِ نغمہ
Coke Studio Fusion
About
ایک روحانی سفر جو روایتی رباب اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گہرے سنتھ پیڈز کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس ٹریک میں ایک جذباتی آواز ہے جو صوفیانہ شاعری کو ایک وسیع اور سنیماٹک ساؤنڈ اسکیپ میں پیش کرتی ہے۔
Lyrics
تلاشِ ذات میں نکلا، تو رستہ خود ہی مل جائےجو چھپ کر دل میں بیٹھا ہے، وہی اب سامنے آئے
میں دھول اڑتے ہوئے رستوں کا مسافر ہوںکبھی تنہا، کبھی خود اپنی ہی محفل کا مظاہر ہوںپرانے خواب آنکھوں میں، نئی اک پیاس رکھتا ہوںمیں اپنی ذات کے اندر، خدا کا عکس رکھتا ہوں
یہ کیسا موڑ ہے، یہ کیسا سفر ہےجہاں مٹی بھی کہتی ہے، کہ سب تیرا اثر ہے
مجھ میں تو، تجھ میں میں، یہ کیسا رشتہ ہےتیرے بن سانس لینا بھی، ادھورا ایک قصہ ہےمیں ڈھونڈوں تجھ کو بستی میں، تو ملتا ہے ویرانے میںمیری ہر بات روشن ہے، تیرے ہی افسانے میں
کہیں خاموشیاں ہیں، اور کہیں شورِ محبت ہےیہ دنیا تو فقط اک پل کی مختصر سی فرصت ہےتیرے جلوے سے منور ہے، یہ میری روح کا آنگنمیں خود کو بھول بیٹھا ہوں، بکھر کر بن کے اک درپن
نہ کوئی فاصلہ باقی، نہ کوئی اب پردہ ہےتیرے ہونے سے ہی دنیا، یہ سارا ایک سجدہ ہےاتر آؤں اگر خود میں، تو تو ہی تو نظر آئےیہ دل اب اور کیا چاہے، جو تجھ پہ ہی ٹھہر جائے
مجھ میں تو، تجھ میں میں، یہ کیسا رشتہ ہےتیرے بن سانس لینا بھی، ادھورا ایک قصہ ہےمیں ڈھونڈوں تجھ کو بستی میں، تو ملتا ہے ویرانے میںمیری ہر بات روشن ہے، تیرے ہی افسانے میں
تیرے ہی افسانے میں...سب تجھ میں ہی پانے میں...بس تو ہی تو، بس تو ہی تو...
عکسِ لاہوت
سرمَدِ نغمہ
Preview