Skip to content
Duration5:30

عکسِ لاہوت

سرمَدِ نغمہ

Coke Studio Fusion

About

ایک روحانی سفر جو روایتی رباب اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گہرے سنتھ پیڈز کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس ٹریک میں ایک جذباتی آواز ہے جو صوفیانہ شاعری کو ایک وسیع اور سنیماٹک ساؤنڈ اسکیپ میں پیش کرتی ہے۔

Lyrics

intro

تلاشِ ذات میں نکلا، تو رستہ خود ہی مل جائےجو چھپ کر دل میں بیٹھا ہے، وہی اب سامنے آئے

verse

میں دھول اڑتے ہوئے رستوں کا مسافر ہوںکبھی تنہا، کبھی خود اپنی ہی محفل کا مظاہر ہوںپرانے خواب آنکھوں میں، نئی اک پیاس رکھتا ہوںمیں اپنی ذات کے اندر، خدا کا عکس رکھتا ہوں

pre-chorus

یہ کیسا موڑ ہے، یہ کیسا سفر ہےجہاں مٹی بھی کہتی ہے، کہ سب تیرا اثر ہے

chorus

مجھ میں تو، تجھ میں میں، یہ کیسا رشتہ ہےتیرے بن سانس لینا بھی، ادھورا ایک قصہ ہےمیں ڈھونڈوں تجھ کو بستی میں، تو ملتا ہے ویرانے میںمیری ہر بات روشن ہے، تیرے ہی افسانے میں

verse

کہیں خاموشیاں ہیں، اور کہیں شورِ محبت ہےیہ دنیا تو فقط اک پل کی مختصر سی فرصت ہےتیرے جلوے سے منور ہے، یہ میری روح کا آنگنمیں خود کو بھول بیٹھا ہوں، بکھر کر بن کے اک درپن

instrumental-solo
bridge

نہ کوئی فاصلہ باقی، نہ کوئی اب پردہ ہےتیرے ہونے سے ہی دنیا، یہ سارا ایک سجدہ ہےاتر آؤں اگر خود میں، تو تو ہی تو نظر آئےیہ دل اب اور کیا چاہے، جو تجھ پہ ہی ٹھہر جائے

chorus

مجھ میں تو، تجھ میں میں، یہ کیسا رشتہ ہےتیرے بن سانس لینا بھی، ادھورا ایک قصہ ہےمیں ڈھونڈوں تجھ کو بستی میں، تو ملتا ہے ویرانے میںمیری ہر بات روشن ہے، تیرے ہی افسانے میں

outro

تیرے ہی افسانے میں...سب تجھ میں ہی پانے میں...بس تو ہی تو، بس تو ہی تو...

عکسِ لاہوت

سرمَدِ نغمہ

Preview

عکسِ لاہوت by سرمَدِ نغمہ | EchoLoRA: Generate a Song with AI