دیارِ رحمت کی پکار
ساجد رضا قادری
Naat
About
یہ نعت ایک پرسکون ہارمونیم کی دھن اور طبلہ کی روایتی تال پر مبنی ہے جس میں گلوکار کی پر اثر اور مِلمیسمیٹک آواز روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس کلام میں حضورِ اکرم ﷺ سے والہانہ عقیدت اور مدینے کی حاضری کی تڑپ کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
میری روح کی پیاس بجھانے کو، اک نام کافی ہےمیری زیست کے ہر اندھیرے میں، وہ شام کافی ہےجن کی آمد سے گلشن مہک اٹھے، وہ نورِ مجسم ہیںان کے در کی گدائی ہی، میرا مقام کافی ہے
مدینے کی گلیوں میں جب بھی، کوئی سانس لیتا ہےخدا کی قسم، وہ سکون کا اک، نیا احساس لیتا ہےوہ رحمت جن کی وسعت سے، جہاں آباد رہتا ہےانہی کی یاد میں ہر دل، اک نیا لباس لیتا ہےمیں کیا ہوں میری بساط کیا، بس ایک ادنیٰ سا ذرہ ہوںوہ سورج ہیں کہ جن کے دم سے، ہر اک پاس لیتا ہے
یا نبی، آپ کی الفت میں، یہ دل دھڑکتا ہےآپ کی یاد میں ہی، ہر آنسو چمکتا ہےجسے مل جائے نسبت آپ کی، وہ فقیری نہیں رہتیآپ کے نام سے ہی، میرا نصیب دمکتا ہے
وہ جن کی سیرت سے روشن، ہر اک راستہ ہواجن کے کلامِ حق سے، ہر اک مسئلہ حل ہواوہ شفیعِ روزِ محشر ہیں، وہ باعثِ تخلیقِ عالمجن کی ایک مسکراہٹ سے، ہر اک غم ہلکا ہوامیں کیسے بیان کروں ان کی، عظمتوں کے قصےان کے ذکر سے ہی، میرا ہر لمحہ مکمل ہوا
یا نبی، آپ کی الفت میں، یہ دل دھڑکتا ہےآپ کی یاد میں ہی، ہر آنسو چمکتا ہےجسے مل جائے نسبت آپ کی، وہ فقیری نہیں رہتیآپ کے نام سے ہی، میرا نصیب دمکتا ہے
کاش کبھی ایسا ہو، کہ حاضری کا بلاوا آئےمیری آنکھوں میں بھی، مدینے کا منظر چھا جائےتڑپتی روح کو سکون ملے، جب روضے کے قریب ہوںان کے قدموں کی خاک، میری پیشانی کو پا جائےیہ زندگی تو بس ایک، مسافت ہے ان کی جانبمیرا ہر قدم اب، ان ہی کے رستوں پہ آ جائے
یا نبی، آپ کی الفت میں، یہ دل دھڑکتا ہےآپ کی یاد میں ہی، ہر آنسو چمکتا ہےجسے مل جائے نسبت آپ کی، وہ فقیری نہیں رہتیآپ کے نام سے ہی، میرا نصیب دمکتا ہے
درود ان پر، سلام ان پر، جو وجہِ کائنات ٹھہرےانہی کے دم سے ہیں، یہ سارے جہاں کے پہرےبس اب تو ایک ہی خواہش، کہ آخری سانس بھی نکلےتو ان کی یاد ہو، اور میرے لبوں پہ نام ان کا ٹھہرےنام ان کا ٹھہرے، بس نام ان کا ٹھہرے
دیارِ رحمت کی پکار
ساجد رضا قادری
Preview