رنگِ مولا
ذرہِ عشق
Sufi
About
ایک جذباتی صوفیانہ کلام جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ آواز (ecstatic-vocal-delivery) کا استعمال کیا گیا ہے جو روح کو سکون اور وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہمتیرے نام پہ خود سے ہی نکل گئے ہمنہ کوئی سرا ہے نہ کوئی ٹھکانہبس تیری جستجو میں ڈھل گئے ہم
میری سانسوں کی ڈوری تیرے ہاتھ میں ہےمیری ہستی کا ہر لمحہ تیرے ساتھ میں ہےمیں تو اک ذرہ ہوں بے نام و نشاں ساتیری ذات کا عکس میری ذات میں ہے
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری روح کو اپنے سنگ کر لے مولامیں بھٹکتا رہا ہوں در بدر کب سےاب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولا
ہائے رے عشق... ہائے رے مستی...میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےتیرے سوا کچھ بھی نہیں، بس تو ہی تو ہے
یہ دنیا تو بس ایک سراب ہے یارویہاں ہر چہرہ ایک نقاب ہے یارومیں نے ڈھونڈا ہے خود کو تیرے ہی اندریہ سفر ہی اصل میں ثواب ہے یارو
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری روح کو اپنے سنگ کر لے مولامیں بھٹکتا رہا ہوں در بدر کب سےاب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولا
نہ مسجد کی قید نہ مندر کا جھگڑاتیرے پیار کا ہر ایک لمحہ ہے تگڑاجو تجھ سے جڑا وہ کبھی ٹوٹا نہیںتیرے عشق کا ہر زخم ہے کتنا بگڑا
میں مٹ گیا تو تجھ کو پایااپنے اندر ہی تجھ کو ہی پایانہ کوئی پردہ نہ کوئی دوری رہیمیں نے ہر سو تجھ کو ہی سمایا
میں ہو گیا فنا تیری چاہت میںمیں کھو گیا تیری ہی عبادت میںاب تو آ جا کہ سانسیں تھم رہی ہیںبس تیری ہی ایک عنایت میں
یا رب... یا رب... تو ہی تو ہے!دل میں تو، سانس میں تو، روح میں تو!میں مٹ گیا، میں مٹ گیا!
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری روح کو اپنے سنگ کر لے مولامیں بھٹکتا رہا ہوں در بدر کب سےاب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولا
اب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولابس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...سب کچھ تیرا... سب کچھ تیرا...
رنگِ مولا
ذرہِ عشق
Preview