Skip to content
Duration5:26

رنگِ مولا

ذرہِ عشق

Sufi

About

ایک جذباتی صوفیانہ کلام جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ آواز (ecstatic-vocal-delivery) کا استعمال کیا گیا ہے جو روح کو سکون اور وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہمتیرے نام پہ خود سے ہی نکل گئے ہمنہ کوئی سرا ہے نہ کوئی ٹھکانہبس تیری جستجو میں ڈھل گئے ہم

verse

میری سانسوں کی ڈوری تیرے ہاتھ میں ہےمیری ہستی کا ہر لمحہ تیرے ساتھ میں ہےمیں تو اک ذرہ ہوں بے نام و نشاں ساتیری ذات کا عکس میری ذات میں ہے

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری روح کو اپنے سنگ کر لے مولامیں بھٹکتا رہا ہوں در بدر کب سےاب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولا

vocal-improvisation

ہائے رے عشق... ہائے رے مستی...میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےتیرے سوا کچھ بھی نہیں، بس تو ہی تو ہے

verse

یہ دنیا تو بس ایک سراب ہے یارویہاں ہر چہرہ ایک نقاب ہے یارومیں نے ڈھونڈا ہے خود کو تیرے ہی اندریہ سفر ہی اصل میں ثواب ہے یارو

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری روح کو اپنے سنگ کر لے مولامیں بھٹکتا رہا ہوں در بدر کب سےاب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولا

verse

نہ مسجد کی قید نہ مندر کا جھگڑاتیرے پیار کا ہر ایک لمحہ ہے تگڑاجو تجھ سے جڑا وہ کبھی ٹوٹا نہیںتیرے عشق کا ہر زخم ہے کتنا بگڑا

bridge

میں مٹ گیا تو تجھ کو پایااپنے اندر ہی تجھ کو ہی پایانہ کوئی پردہ نہ کوئی دوری رہیمیں نے ہر سو تجھ کو ہی سمایا

climax

میں ہو گیا فنا تیری چاہت میںمیں کھو گیا تیری ہی عبادت میںاب تو آ جا کہ سانسیں تھم رہی ہیںبس تیری ہی ایک عنایت میں

vocal-improvisation

یا رب... یا رب... تو ہی تو ہے!دل میں تو، سانس میں تو، روح میں تو!میں مٹ گیا، میں مٹ گیا!

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری روح کو اپنے سنگ کر لے مولامیں بھٹکتا رہا ہوں در بدر کب سےاب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولا

outro

اب تو اپنے در پہ مجھے کر لے مولابس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...سب کچھ تیرا... سب کچھ تیرا...

رنگِ مولا

ذرہِ عشق

Preview

رنگِ مولا by ذرہِ عشق | EchoLoRA: Generate a Song with AI