عشق کا ٹھکانہ
گلستان ویرانہ
صوفیانہ کلام
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ اس میں جذباتی اور وجدانی انداز کی گلوکاری شامل ہے جو سننے والے کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیرے عشق میں گم، خود سے بیگانہ ہوادل کا یہ ویرانہ، گلستاں کا ٹھکانہ ہوا
میں تو ذرہ ہوں، تو ہے سورج کی تابانیمیری ہستی تیرے نام پہ ہے قربانیمیں نے مٹایا خود کو، تب تجھ کو پایاتیری طلب نے مجھے، کہاں سے کہاں پہنچایا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرمیری روح کا مسکن، میری آنکھوں کا تو ہی منظرمیں تیرا بندہ، تو میرا مالک، تیری ہی چاہت میری منزلتیرے عشق میں ڈوب کر، پا لیا میں نے سارا حاصل
کوئی ڈھونڈے مسجد، کوئی ڈھونڈے مے خانہمیں نے تو دل میں پا لیا، تیرا ہی ٹھکانہمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھوں میں ہےمیری ہر ایک دعا، تیرے وعدوں میں ہے
ہو... ہو... مولیٰ...تیرے بن، سب سونا، سب سوناتیرے بن، سب سونا، سب سونا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرمیری روح کا مسکن، میری آنکھوں کا تو ہی منظرمیں تیرا بندہ، تو میرا مالک، تیری ہی چاہت میری منزلتیرے عشق میں ڈوب کر، پا لیا میں نے سارا حاصل
یہ دنیا فانی ہے، یہ رنگ اور یہ روپ بھیتیرے جلووں کے سامنے، ماند ہے دھوپ بھیجو تجھ سے جڑ گیا، وہ کبھی نہ ٹوٹاتیرے در کا فقیر، کبھی نہ بھوکا
مٹا دے مجھ کو، کہ میں اب باقی نہ رہوںتیری ذات میں کھو کر، صرف تیری ہی بات کہوںعشق کی آگ میں، میں تو جل گیا سارااب تو ہی ہے میرا، اور میں تیرا ہی سہاراہو... تیرا ہی سہارا!
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرمیری روح کا مسکن، میری آنکھوں کا تو ہی منظرمیں تیرا بندہ، تو میرا مالک، تیری ہی چاہت میری منزلتیرے عشق میں ڈوب کر، پا لیا میں نے سارا حاصل
خاموشی میں بھی، تیرا ہی نام ہےمیری زندگی، تیرے ہی کام ہےبس تو... صرف تو...تیرا ہی نام... تیرا ہی نام...
عشق کا ٹھکانہ
گلستان ویرانہ
Preview