Skip to content
Duration3:47

عشق کا ٹھکانہ

گلستان ویرانہ

صوفیانہ کلام

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ اس میں جذباتی اور وجدانی انداز کی گلوکاری شامل ہے جو سننے والے کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے عشق میں گم، خود سے بیگانہ ہوادل کا یہ ویرانہ، گلستاں کا ٹھکانہ ہوا

verse

میں تو ذرہ ہوں، تو ہے سورج کی تابانیمیری ہستی تیرے نام پہ ہے قربانیمیں نے مٹایا خود کو، تب تجھ کو پایاتیری طلب نے مجھے، کہاں سے کہاں پہنچایا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرمیری روح کا مسکن، میری آنکھوں کا تو ہی منظرمیں تیرا بندہ، تو میرا مالک، تیری ہی چاہت میری منزلتیرے عشق میں ڈوب کر، پا لیا میں نے سارا حاصل

verse

کوئی ڈھونڈے مسجد، کوئی ڈھونڈے مے خانہمیں نے تو دل میں پا لیا، تیرا ہی ٹھکانہمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھوں میں ہےمیری ہر ایک دعا، تیرے وعدوں میں ہے

vocal-improvisation

ہو... ہو... مولیٰ...تیرے بن، سب سونا، سب سوناتیرے بن، سب سونا، سب سونا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرمیری روح کا مسکن، میری آنکھوں کا تو ہی منظرمیں تیرا بندہ، تو میرا مالک، تیری ہی چاہت میری منزلتیرے عشق میں ڈوب کر، پا لیا میں نے سارا حاصل

verse

یہ دنیا فانی ہے، یہ رنگ اور یہ روپ بھیتیرے جلووں کے سامنے، ماند ہے دھوپ بھیجو تجھ سے جڑ گیا، وہ کبھی نہ ٹوٹاتیرے در کا فقیر، کبھی نہ بھوکا

climax

مٹا دے مجھ کو، کہ میں اب باقی نہ رہوںتیری ذات میں کھو کر، صرف تیری ہی بات کہوںعشق کی آگ میں، میں تو جل گیا سارااب تو ہی ہے میرا، اور میں تیرا ہی سہاراہو... تیرا ہی سہارا!

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرمیری روح کا مسکن، میری آنکھوں کا تو ہی منظرمیں تیرا بندہ، تو میرا مالک، تیری ہی چاہت میری منزلتیرے عشق میں ڈوب کر، پا لیا میں نے سارا حاصل

outro

خاموشی میں بھی، تیرا ہی نام ہےمیری زندگی، تیرے ہی کام ہےبس تو... صرف تو...تیرا ہی نام... تیرا ہی نام...

عشق کا ٹھکانہ

گلستان ویرانہ

Preview

عشق کا ٹھکانہ by گلستان ویرانہ | EchoLoRA: Generate a Song with AI