اب کے یوں دل کا حال
خاموش راوی
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعرانہ گہرائی اور جذباتی کیفیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
Lyrics
اب کے یوں دل کا حال سنایا نہیں جاتاخاموشی میں بھی کچھ کہا نہیں جاتا
وہ اک شخص جو خوابوں میں بسا رہتا ہے ہر پلاسے آنکھوں سے اب تو ہٹایا نہیں جاتامحبت کی یہ کیسی آگ ہے میرے اندرکہ بجھتی بھی نہیں اور جلایا نہیں جاتا
تیری یادوں کا موسم ہے رگوں میں میریتیرے بن اب تو خود کو منایا نہیں جاتااب کے یوں دل کا حال سنایا نہیں جاتا
سفر طویل ہے اور راستے ہیں اجنبی سےقدم اٹھتے تو ہیں پر بڑھایا نہیں جاتاکبھی جو ہم نے سوچا تھا کہ مل جائیں گے ہموہ وعدہ اب بھی دل سے بھلایا نہیں جاتا
تیری یادوں کا موسم ہے رگوں میں میریتیرے بن اب تو خود کو منایا نہیں جاتااب کے یوں دل کا حال سنایا نہیں جاتا
بس اک دھڑکن ہے جو نام لیتی ہے تیرااسے اب اور کتنا دبایا نہیں جاتاخاموشی میں بھی کچھ کہا نہیں جاتا
اب کے یوں دل کا حال
خاموش راوی
Preview