Skip to content
Duration3:11

اب کے یوں دل کا حال

خاموش راوی

غزل

About

ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعرانہ گہرائی اور جذباتی کیفیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

اب کے یوں دل کا حال سنایا نہیں جاتاخاموشی میں بھی کچھ کہا نہیں جاتا

verse

وہ اک شخص جو خوابوں میں بسا رہتا ہے ہر پلاسے آنکھوں سے اب تو ہٹایا نہیں جاتامحبت کی یہ کیسی آگ ہے میرے اندرکہ بجھتی بھی نہیں اور جلایا نہیں جاتا

refrain

تیری یادوں کا موسم ہے رگوں میں میریتیرے بن اب تو خود کو منایا نہیں جاتااب کے یوں دل کا حال سنایا نہیں جاتا

instrumental-break
verse

سفر طویل ہے اور راستے ہیں اجنبی سےقدم اٹھتے تو ہیں پر بڑھایا نہیں جاتاکبھی جو ہم نے سوچا تھا کہ مل جائیں گے ہموہ وعدہ اب بھی دل سے بھلایا نہیں جاتا

refrain

تیری یادوں کا موسم ہے رگوں میں میریتیرے بن اب تو خود کو منایا نہیں جاتااب کے یوں دل کا حال سنایا نہیں جاتا

outro

بس اک دھڑکن ہے جو نام لیتی ہے تیرااسے اب اور کتنا دبایا نہیں جاتاخاموشی میں بھی کچھ کہا نہیں جاتا

اب کے یوں دل کا حال

خاموش راوی

Preview

اب کے یوں دل کا حال by خاموش راوی | EchoLoRA: Generate a Song with AI