شورِ یقیں
مستِ یقیں
صوفی راک
About
ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید الیکٹرک گٹار کی ڈسٹورشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ گانے میں جذباتی اور اونچے سروں والی گلوکاری کا استعمال کیا گیا ہے جو روحانی کیفیت اور وجدانی تجربہ پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
میں ہوں، تو ہے، یا کچھ بھی نہیںخالی ہاتھ، دل میں اک شورِ یقیںکب تک چھپاؤں، کب تک نہ کہوںاس ذاتِ بے نشاں میں، میں خود کو ڈھونڈوں
راستہ لاپتہ، پاؤں میں زنجیرِ اناتیرے در کا گدا، ڈھونڈتا ہے اپنا پتاذرہ ذرہ گواہی دے، تو ہی تو ہے ہر سومیری ہستی مٹا دے، کر دے مجھے بے سدھ تو
آنکھوں میں نمی، سانسوں میں تپشتیرے عشق کی آگ، میری واحد کشش
یاہو، یاہو، پکارے یہ روحِ بے تابتو ہی حقیقت، باقی سب صرف خوابسر جھک گیا، اب نہ کوئی سوال ہےتیرے وصال کی طلب، یہی میرا حال ہے
کبھی سجدوں میں پایا، کبھی تنہائی میں دیکھاتیرے جلووں نے ہر پل، میرا رستہ سنوارامیں مٹی کا پتلا، تو نورِ ازلتیرے رنگ میں رنگنے کا، ڈھنگ اب آیا
نہ میں ہندو، نہ میں مومن، نہ میں پارسیبس تیرے عشق کی لہر، میری زندگیتوڑ دے یہ بندھن، کھول دے یہ تالےتیری ہی مستی میں، اب ہم سنبھالے
یاہو، یاہو، پکارے یہ روحِ بے تابتو ہی حقیقت، باقی سب صرف خوابسر جھک گیا، اب نہ کوئی سوال ہےتیرے وصال کی طلب، یہی میرا حال ہے
میں مٹا، میں ختم، اب تو ہی تو ہےخاموشی میں بھی، بس تیری گفتگو ہےبس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...
شورِ یقیں
مستِ یقیں
Preview