سنگمِ عشق
سائلِ عشق
قوالی فیوژن
About
ایک جدید قوالی فیوژن ٹریک جو روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری، جذباتی آواز، اور تالیوں کی گونج شامل ہے جو ایک روحانی اور توانائی بخش ماحول پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا سوالی ہوں میں، اے میرے مہرماںمیری روح کی پیاس ہے تو، تو ہی میرا جہاںمیں بھٹکتا رہا عمر بھر، تیری تلاش میںاب تیرے عشق میں کھو گیا، میرا سارا نشاں
تیرے قدموں میں سر رکھ دیا، مٹ گئی ہر انااب نہ کوئی گلہ ہے مجھے، نہ کوئی ماجراتیری ذات کا نور ہے چار سو، میں اندھیروں میں تھاتو نے بخشا مجھے روشنی، تو نے رستہ دکھامیری سانسوں میں تیرا ہی ذکر، میری دھڑکن تیریتجھ سے ہی وابستہ ہے اب، میری ہر اک دعا
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے سنگمتیری چاہت میں جلتے ہوئے، مل گئے سب غممیں کہاں تھا؟ میں کیا تھا؟ اب سب بھول گیابس تیرے نام سے ہی تو، مہکتے ہیں ہم
ہو... اللہ ہو، اللہ ہو...مستی میں ڈوبے، تیرے رنگ میں رنگےہو... اللہ ہو، اللہ ہو...سارے بندھن ٹوٹے، تیرے سنگ میں سنگے
دنیا کی محفلیں سب فریب، سب خواب ہیںتیری چوکھٹ کے ٹکڑے ہی تو، میرے نایاب ہیںکون کہتا ہے دوری ہے اب، میرے اور تیرے درمیانتیری قربت کے لمحے ہی، میری اصل کتاب ہیںمیں نے ڈھونڈا تجھے خود میں ہی، جب پردہ ہٹاتیرے جلوے ہی تو میرے، اصل انتخاب ہیں
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے سنگمتیری چاہت میں جلتے ہوئے، مل گئے سب غممیں کہاں تھا؟ میں کیا تھا؟ اب سب بھول گیابس تیرے نام سے ہی تو، مہکتے ہیں ہم
تیرے عشق میں، تیرے عشق میںسب مٹ گیا، سب بٹ گیاتیرے عشق میں، تیرے عشق میںمیں ہو گیا، تو ہو گیا
یہ سفر ختم ہونے کو ہے، اب کوئی فاصلہ نہیںتیرے سوا اس جہاں میں کوئی، میرا آسرا نہیںمیں مٹا تو تجھے پا لیا، یہ راز کھل گیاتجھ سے بچھڑنے کا اب مجھے، کوئی ڈر رہا نہیںمیری ہستی تیرے نام پر، قربان کر دی میں نےاب میرے وجود کا کوئی، دوسرا پتہ نہیں
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے سنگمتیری چاہت میں جلتے ہوئے، مل گئے سب غممیں کہاں تھا؟ میں کیا تھا؟ اب سب بھول گیابس تیرے نام سے ہی تو، مہکتے ہیں ہم
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری انتہا بھی تو، میری ابتدا بھی توتیری یاد میں، تیری یاد میںمیں کھو گیا، میں ہو گیااللہ ہو، اللہ ہو...
سنگمِ عشق
سائلِ عشق
Preview