Skip to content
Duration4:05

تو ہی اول تو ہی آخر

شمس الدین قوال

Qawwali

About

ایک روایتی قوالی جس میں ہارمونیئم کی گونجتی ہوئی دھن اور طبلہ کی تیز تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، کال اینڈ رسپانس ووکال اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبے ہیں، خود سے ہی دور ہیںتیری طلب میں ہم، ذرہ ذرہ نور ہیںآ دیکھ میری حالت، تیرے بن ادھورے ہیںتیری ہی جستجو میں، ہم خود کو چھوڑے ہیں

verse

درد کا یہ سفر، عشق کی اک راہ ہےتیرے ملن کی پیاس، دل کی یہ آہ ہےمیں تو مٹا رہا ہوں، اپنا وجود یہاںتو ہی تو ہے سب کچھ، میں تو بس اک پناہ ہےآنکھیں جو کھولی تو، بس تیرا ہی عکس تھادل میں جو دھڑکن ہے، تیرا ہی رقص ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا یار ہےتجھ سے ہی تو جینے کا، سارا کاروبار ہےمٹ گئے ہم تجھ میں، یہ کیسا پیار ہےتیری ہی بندگی میں، سارا میرا وقار ہے

improvisation

ہو... تیری گلی کا میں دیوانہہو... تیرے سوا کچھ نہ جاناتیرا ذکر، تیرا فکر، تیرا ہی نام ہےمیری سانسوں میں بسا، تیرا ہی کام ہے

verse

خودی کو جو مٹایا تو، تجھے پایا میں نےاپنے ہی اندر، تیرا گھر سجایا میں نےنہ کوئی دوری ہے، نہ کوئی فاصلہ ابتجھ میں ہی کھو کر، خود کو پایا میں نےیہ جو محفل ہے، تیرے ہی دم سے ہےہر طرف نور ہے، تیری ہی قسم سے ہے

crescendo

عشق کی آگ میں، جل کے کندن ہوئےتیرے ہی رنگ میں، ہم تو رنگین ہوئےسب کچھ لٹا دیا، بس تجھے پانے کوتیری ہی راہ میں، ہم تو فنا ہوئےتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے

outro

خاموشیاں بھی اب، تیرا ہی گیت گاتی ہیںتیری یادیں دل میں، کتنے دیپ جلاتی ہیںبس تو ہی ہے، بس تو ہی ہےتجھ میں ہی فنا، تجھ میں ہی بقابس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے

تو ہی اول تو ہی آخر

شمس الدین قوال

Preview

تو ہی اول تو ہی آخر by شمس الدین قوال | EchoLoRA: Generate a Song with AI