Skip to content
ذات کا جلوہ
Duration3:42

ذات کا جلوہ

سحرِ قلندر

صوفی راک

About

یہ ٹریک روایتی صوفی کلام کو جدید راک سازوں کے ساتھ جوڑتا ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی دھنیں گٹار کی ڈسٹورشن کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں۔ گائیکی کا انداز جذباتی اور اونچے سروں پر مبنی ہے جو ایک روحانی اور پرجوش کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہتیرے نام کا، ہر اک دم ہے واسطہخودی کو مٹا کر، تجھ میں کھو گیامیں خود سے مل کر، خود ہی ہو گیا

verse 1

میرے اندر کی آگ، اب باہر آتی ہےتیری یاد کی خوشبو، روح کو جگاتی ہےمیں نے ڈھونڈا تھا تجھے، مسجد اور مندر میںپر تو تو بستا ہے، میرے ہی اندر میںآنکھیں بند کروں تو، تیرا ہی چہرہ ہومیری ہر سانس میں، بس تیرا ہی پہرہ ہو

pre-chorus

یہ دنیا تو بس، اک فانی تماشا ہےتیری محبت ہی، میرا اصل اثاثہ ہےمیں بھٹکتا رہا، تیرے ہی سائے میںتو مل گیا مجھے، میرے ہی خیالات میں

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر ہےتیری ذات کا جلوہ، ہر اک منظر میں ہےمیں مٹی ہوں، تو ہے میرا وجودتجھ سے ہی قائم، میرا سارا درودحق موجود، حق موجود، تو ہی حق موجود

verse 2

میں نے چھوڑے ہیں سارے، دنیا کے یہ بندھنتیرے عشق میں رنگا، میرا یہ تن مننہ کوئی دوری ہے، نہ کوئی فاصلہ ابتیرے قدموں میں گزری، میری ہر شام و شبمیں پیاسا تھا جس کا، وہ جام مل گیامجھے خود سے ملنے کا، مقام مل گیا

bridge

رقص میں ہے کائنات، تیرے ہی نام سےروشنی پھوٹتی ہے، تیرے ہی کام سےمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہستی تو بس، تیرا ہی عکسِ ہو ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر ہےتیری ذات کا جلوہ، ہر اک منظر میں ہےمیں مٹی ہوں، تو ہے میرا وجودتجھ سے ہی قائم، میرا سارا درودحق موجود، حق موجود، تو ہی حق موجود

instrumental-solo
outro

خاموشی میں بھی، تیری پکار ہےمیری ہر دھڑکن، تیرا ہی پیار ہےتو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...حق موجود...حق موجود...

ذات کا جلوہ

سحرِ قلندر

Preview