تیرے کرم کی بے انتہا حمد
فیضانِ چشتی
Hamd
About
یہ حمد ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کی گہری دھن اور طبلہ کی روایتی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آواز کا مکس انتہائی صاف اور صوتی ہے، جو سامعین کو مراقبہ اور عبادت کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے ابتدا کروں، تیری حمد سے دل کو سجا کروںجو نہاں ہے سب اس کی نظر میں، میں اسی کا تذکرہ کروں
ذراتِ کائنات میں تیرا ہی نور ہے چھپا ہواہر ایک پھول، ہر ایک پتہ تیری ہی حمد گا رہاتیری عطا کی وسعتوں کا کوئی بھی تو حساب نہیںمیں خاک ہوں، میں کچھ نہیں، تیرا کرم بے انتہا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے
زمیں کے فرش سے لے کر فلک کی بلندیوں تکتیرا ہی عکس ہے بکھرا، ستاروں کی چمک میں بھیمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے اپنی ہی سانسوں کی لہر میںتو رگِ جاں سے بھی قریب ہے، میری ہر ایک جستجو میں
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے
تیری رحمتوں کا سایہ ہے میری ہر ایک مشکل پرتو نے سنبھالا ہے مجھ کو، جب بھی میں گرنے لگاکوئی مانگنے والا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا یہاں سےتیری بخشش کا دریا ہے، ہر ایک پیاسے کے لیے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے
میرے گناہوں کی سیاہی کو اپنی رحمت سے دھو دےمیری روح کو اپنے نور کی ٹھنڈک سے تو بھر دےمیں بھٹک گیا تھا راہوں میں، اب تیری طرف ہی آتا ہوںتو ہی منزل ہے، تو ہی راستہ، تو ہی میری پناہ ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے
تیری حمد ہی میرا سرمایہ، تیری یاد ہی میرا سکونبس تجھ سے ہے میری ہستی، تجھ ہی پہ ختم میرا جنوناے میرے رب، اے میرے مولا، اے میرے رب، اے میرے مولابس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے...
تیرے کرم کی بے انتہا حمد
فیضانِ چشتی
Preview