Skip to content
تیرے کرم کی بے انتہا حمد
Duration5:46

تیرے کرم کی بے انتہا حمد

فیضانِ چشتی

Hamd

About

یہ حمد ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کی گہری دھن اور طبلہ کی روایتی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آواز کا مکس انتہائی صاف اور صوتی ہے، جو سامعین کو مراقبہ اور عبادت کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام سے ابتدا کروں، تیری حمد سے دل کو سجا کروںجو نہاں ہے سب اس کی نظر میں، میں اسی کا تذکرہ کروں

verse

ذراتِ کائنات میں تیرا ہی نور ہے چھپا ہواہر ایک پھول، ہر ایک پتہ تیری ہی حمد گا رہاتیری عطا کی وسعتوں کا کوئی بھی تو حساب نہیںمیں خاک ہوں، میں کچھ نہیں، تیرا کرم بے انتہا

refrain

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے

verse

زمیں کے فرش سے لے کر فلک کی بلندیوں تکتیرا ہی عکس ہے بکھرا، ستاروں کی چمک میں بھیمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے اپنی ہی سانسوں کی لہر میںتو رگِ جاں سے بھی قریب ہے، میری ہر ایک جستجو میں

refrain

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے

verse

تیری رحمتوں کا سایہ ہے میری ہر ایک مشکل پرتو نے سنبھالا ہے مجھ کو، جب بھی میں گرنے لگاکوئی مانگنے والا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا یہاں سےتیری بخشش کا دریا ہے، ہر ایک پیاسے کے لیے

refrain

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے

verse

میرے گناہوں کی سیاہی کو اپنی رحمت سے دھو دےمیری روح کو اپنے نور کی ٹھنڈک سے تو بھر دےمیں بھٹک گیا تھا راہوں میں، اب تیری طرف ہی آتا ہوںتو ہی منزل ہے، تو ہی راستہ، تو ہی میری پناہ ہے

refrain

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری ذات ہے سب سے بالا، تو ہی ہے میرا دامناے میرے رب، اے میرے مولا، تیری شان نرالی ہےتیرے در کا سوالی ہوں، یہ زندگی تیرے نام کی ہے

outro

تیری حمد ہی میرا سرمایہ، تیری یاد ہی میرا سکونبس تجھ سے ہے میری ہستی، تجھ ہی پہ ختم میرا جنوناے میرے رب، اے میرے مولا، اے میرے رب، اے میرے مولابس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے...

تیرے کرم کی بے انتہا حمد

فیضانِ چشتی

Preview