بکھرتے خوابوں کا سفر
آہنگِ بیداری
Pakistani Rock
About
ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جس میں الیکٹرک گٹار کی گونج اور روایتی طبلہ کی تھاپ کا حسین امتزاج ہے۔ یہ گانا سماجی بے بسی اور امید کی ایک جذباتی داستان ہے، جس میں مشرقی راگوں پر مبنی ووکال ترتیب کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
Lyrics
راکھ اڑی ہے شہر کی گلیوں سے اب کے بارسورج بھی تھک گیا ہے، لٹکتی ہے اک دیوارہم نے تو خواب دیکھے تھے، آنکھوں میں روشنی کےمگر یہ دھوپ زہریلی، یہ سائے ہیں خودغرض یارگھر کی چوکھٹ پہ بیٹھے، پرندے بھی خاموش ہیںکون سنے گا اب یہاں، دل کی یہ پکار
کتابوں کے ورقوں میں چھپی ہے کوئی کہانیجو ہم نے لکھنی تھی، وہ بن گئی ہے پرانیہاتھوں کی لکیروں میں، لکھی ہے بے بسی ابپانی کی پیاس لے کر، ہم ڈھونڈیں گے کہاں پانییہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی ہے گناہہر سمت بکھری ہوئی ہے، جھوٹ کی یہ گرانی
قدموں میں زنجیریں، ہاتھوں میں سوال ہےاپنے ہی آئینے میں، اپنا ہی زوال ہے
اٹھو کہ وقت کی نبض اب رکنے کو ہےیہ بوجھ سانسوں کا، اب تھمنے کو ہےپھر سے جلائیں گے ہم، اندھیروں میں چراغیہ آگ سینوں کی، اب بھڑکنے کو ہےہم بکھریں گے نہیں، ہم سنور جائیں گےیہ راستہ منزل تک، اب جانے کو ہے
دیواروں پر لکھے ہیں، نام ان کے جو اب نہیںہم ڈھونڈتے ہیں ان کو، جن کا کوئی پتا نہیںیہ کیسی بستی ہے، جہاں بولنا بھی جرم ہےخاموشی کے سوا، اب کوئی اور راستہ نہیںہم وہ مسافر ہیں، جن کی کوئی حد نہیںہم وہ طوفان ہیں، جو کبھی رکتا نہیں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کے، ٹکڑے چن رہے ہیں ہماپنے ہی لہو سے، دیواریں بن رہے ہیں ہمنہ کوئی ہمدرد ہے، نہ کوئی مونس یہاںتنہائی کے صحرا میں، اب چل رہے ہیں ہم
کالے بادل چھائے ہیں، امید کی کرن کہاںتاریک راتوں میں، یہ سہمی ہوئی کرن کہاںمٹی پکارتی ہے، اپنے ہی بچوں کو آجیہ جو بچھڑ گئے ہیں، ان کا ٹھکانہ ہے کہاںہم پھر اٹھیں گے، ہم پھر لڑیں گے ابخوف کے اس سائے سے، ہم ڈریں گے نہیں اب
اٹھو کہ وقت کی نبض اب رکنے کو ہےیہ بوجھ سانسوں کا، اب تھمنے کو ہےپھر سے جلائیں گے ہم، اندھیروں میں چراغیہ آگ سینوں کی، اب بھڑکنے کو ہےہم بکھریں گے نہیں، ہم سنور جائیں گےیہ راستہ منزل تک، اب جانے کو ہے
آخری سانس تک، یہ جدوجہد جاری رہے گیسچائی کی خوشبو، ہر سو ہی پیاری رہے گیہم مٹ جائیں گے مگر، نام رہے گا ہمارایہ داستانِ وفا، ہمیشہ ہی جاری رہے گی
اب نہیں رکنا، اب نہیں جھکنابس چلتے جانا، بس لڑتے جانااندھیرے مٹیں گے، سویرا آئے گاہمارا یہ جہاں، پھر سے مسکرائے گاپھر سے مسکرائے گا...پھر سے مسکرائے گا...
بکھرتے خوابوں کا سفر
آہنگِ بیداری
Preview