فنا کی تجلی
دیوانگانِ مولا
صوفیانہ قوالی
About
یہ صوفیانہ کلام ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مستقل ڈرون آواز اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ انداز (ecstatic vocal delivery) کو نمایاں کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت اور وجد میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں میں، تیرے نام پہ جیتا ہوںتیری یادوں کے ساگر میں، ہر پل میں پیتا ہوں
میری سانسوں میں بستی ہے، تیری ہی ایک کہانیمیں خاکِ رہگزر ہوں، تو ہے میری زندگانیکبھی خود سے ملا تو میں، کبھی تجھ میں کھو گیایہ کیسا عشق ہے مولا، کہ میں خود ہی نہیں رہا
ہائے رے ہائے، مستانہ ہواتیرے عشق میں دیوانہ ہواہو، ہو، ہو، ہو، ہو
تیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، سب کچھ بھول آیا ہوںمیں اپنی ذات کو مٹا کر، تجھ کو پا گیا ہوںتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا ٹھکانہ ہےتیرے قدموں میں ہی مولا، میرا سارا زمانہ ہے
یہ دنیا ایک دھوکا ہے، یہ سب رنگ ہیں فانیحقیقت تو وہی ہے جو، لکھی ہے تو نے زبانیمیں ذرہ ہوں تو سورج ہے، تیری کرنوں کا متلاشیتیری رحمت کی بارش ہو، تو مٹے دل کی ویرانی
میں ہو چکا ہوں تیرا، اب تو ہی سنبھال لےمیری روح کی پیاس کو، اپنے وصل میں ڈال دےنشہ ہے تیری محبت کا، اب ہوش کہاں باقیتیرے نور کی تجلی میں، فنا ہوئی میری ہستی
تیرے در پہ پڑا ہوں، اب اٹھنے کی تاب نہیںتیرے سوا اس جہاں میں، میرا کوئی جواب نہیںبس تو ہی تو، بس تو ہی توبس تو ہی تو، بس تو ہی تو
فنا کی تجلی
دیوانگانِ مولا
Preview