Skip to content
Duration4:40

فنا کی تجلی

دیوانگانِ مولا

صوفیانہ قوالی

About

یہ صوفیانہ کلام ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مستقل ڈرون آواز اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ انداز (ecstatic vocal delivery) کو نمایاں کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت اور وجد میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں میں، تیرے نام پہ جیتا ہوںتیری یادوں کے ساگر میں، ہر پل میں پیتا ہوں

verse

میری سانسوں میں بستی ہے، تیری ہی ایک کہانیمیں خاکِ رہگزر ہوں، تو ہے میری زندگانیکبھی خود سے ملا تو میں، کبھی تجھ میں کھو گیایہ کیسا عشق ہے مولا، کہ میں خود ہی نہیں رہا

vocal-improvisation

ہائے رے ہائے، مستانہ ہواتیرے عشق میں دیوانہ ہواہو، ہو، ہو، ہو، ہو

chorus

تیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، سب کچھ بھول آیا ہوںمیں اپنی ذات کو مٹا کر، تجھ کو پا گیا ہوںتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا ٹھکانہ ہےتیرے قدموں میں ہی مولا، میرا سارا زمانہ ہے

verse

یہ دنیا ایک دھوکا ہے، یہ سب رنگ ہیں فانیحقیقت تو وہی ہے جو، لکھی ہے تو نے زبانیمیں ذرہ ہوں تو سورج ہے، تیری کرنوں کا متلاشیتیری رحمت کی بارش ہو، تو مٹے دل کی ویرانی

climax

میں ہو چکا ہوں تیرا، اب تو ہی سنبھال لےمیری روح کی پیاس کو، اپنے وصل میں ڈال دےنشہ ہے تیری محبت کا، اب ہوش کہاں باقیتیرے نور کی تجلی میں، فنا ہوئی میری ہستی

outro

تیرے در پہ پڑا ہوں، اب اٹھنے کی تاب نہیںتیرے سوا اس جہاں میں، میرا کوئی جواب نہیںبس تو ہی تو، بس تو ہی توبس تو ہی تو، بس تو ہی تو

فنا کی تجلی

دیوانگانِ مولا

Preview

فنا کی تجلی by دیوانگانِ مولا | EchoLoRA: Generate a Song with AI