Skip to content
Duration4:29

ذات کا وصال

مستی محفل

قوالی فیوژن

About

یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری، پرجوش تالیوں کی آواز، اور روحانی گہرائی کو جدید ساؤنڈ ڈیزائن کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

ذات کے پردے ہٹانے آیا ہوںمیں خود کو مٹانے آیا ہوںتیرے در کی خاک، میری آخری پناہمیں عشق کی آگ میں جلنے آیا ہوں

verse

کہیں ڈھونڈوں تجھے، تو تو رگِ جاں میں ہےمیری ہر سانس، میری ہر داستاں میں ہےمیں تو اک قطرہ ہوں، تو ہے سمندرمیری ہستی تیری ہی پہچان میں ہےخود کو کھویا تو پایا تجھےاپنی ذات کے قید خانے سے نکل آیا ہوں

chorus

مستی میں ڈوبے، یہ دل کے تارےتیرے ہی دم سے ہیں، یہ جہاں سارےتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیرے ہی نام پر، ہم ہیں وارے نیارے

vocal improvisation

ہو... اللہ... حق...تیری جستجو میں، خود کو بھلا دیاتیرے نور نے، میرا جہاں جگمگا دیاحق... حق... یا غنی...مجھ میں تو ہے، تجھ میں میں ہوںیہ کیسا وصال ہے، یہ کیسا نشہ ہے

verse

نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ رہاتیرے جلووں کا، میرے دل پہ سلسلہ رہامیں تو مٹی تھا، تو نے سونا کر دیاتیری محبت کا، یہ کیسا معجزہ رہابکھرے ہوئے تھے، اب سنبھل گئےتیرے عشق کے رنگ میں، ہم ڈھل گئے

chorus

مستی میں ڈوبے، یہ دل کے تارےتیرے ہی دم سے ہیں، یہ جہاں سارےتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیرے ہی نام پر، ہم ہیں وارے نیارے

drop

مٹ گئے سب نشان، اب صرف تو ہےمیرا ہر ایک سانس، اب صرف تو ہےحق... حق... حق...تیرے سوا کچھ بھی نہیں!

vocal improvisation

یا ہو، یا ہو، یا ہودل کی دھڑکنوں میں، تیرا ہی ذکر ہےمیری روح کا، تو ہی تو فکر ہےعشقِ حقیقی کی، یہ کیسی پیاس ہےتیرے قرب کی، یہ کیسی آس ہے

outro

خاموشی میں بھی، تیری ہی صدا ہےمیری ہر دعا، اب صرف تیری رضا ہےمٹ گیا میں، تو ہی باقی بچا ہےتیرے عشق میں، اب میرا سب کچھ فنا ہےفنا ہے... فنا ہے...صرف تو... صرف تو...

ذات کا وصال

مستی محفل

Preview

ذات کا وصال by مستی محفل | EchoLoRA: Generate a Song with AI