Skip to content
عشق کی ڈگر
Duration3:43

عشق کی ڈگر

روحانی سنگت

قوالی فیوژن

About

یہ ٹریک روایتی صوفیانہ قوالی اور جدید الیکٹرانک بیٹس کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں ہارمونیم کی گہرائی اور طبلہ کی تھاپ کو ڈیجیٹل ساؤنڈ ڈیزائن کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ گانے میں صوفیانہ کلام، جوشیلے تالیاں بجانے کے انداز اور روحانی وجد کو جدید مغربی موسیقی کے عناصر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

نگاہیں فرشِ راہ کر دیں، محبت کا سفر ہے یہجو ٹوٹا دل، تو سمجھو کہ، خدا کی اک نظر ہے یہمیں اپنی ذات سے نکلوں، تو اس کی ذات پا لوں گایہ رستہ عشق کا ہے، اور بڑی مشکل ڈگر ہے یہ

verse

کہیں ڈھونڈوں تجھے میں، تو کہاں تو ملتا ہےمیری ہر سانس میں جیسے، تیرا ہی گل کھلتا ہےمیں خود کو بھول بیٹھا ہوں، تیری ہی جستجو میں ابیہ کیسا رنگ ہے تیرا، جو مجھ پر ہی ڈھلتا ہےنہ کوئی فاصلہ باقی، نہ کوئی پردہ حائل ہوتیرے ہی نور سے روشن، ہر اک میری منزل ہو

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ایک ملاپ ہےنہ کوئی میں، نہ کوئی تو، بس اک عجیب تڑپ ہےتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، ہر سو تیرے ہی جلوےمیری روح کی پیاس، بس تیرے ہی نام کا لپ ہے

vocal improvisation

ہائے رے، ہائے رے، عشق کی یہ آگتیرے ہی دم سے روشن، یہ دل کے سب چراغہو، ہو، ہو، تو ہی تو، تو ہی تو، تو ہی تو

verse

زمیں سے آسماں تک، تیرا ہی ذکر جاری ہےمیری خاموشیوں میں بھی، تیری ہی آہ و زاری ہےمیں ذرہ ہوں، تو سورج ہے، میری کیا اوقات ہے لیکنتیرے در پر ہی سجدہ، میری سب سے بڑی یاری ہےنہ کوئی فرق باقی ہو، نہ کوئی ذات کا بندھنتیرے ہی عشق میں ڈوبے، یہ میرا سارا ہی تن من

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ایک ملاپ ہےنہ کوئی میں، نہ کوئی تو، بس اک عجیب تڑپ ہےتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، ہر سو تیرے ہی جلوےمیری روح کی پیاس، بس تیرے ہی نام کا لپ ہے

drop

تو ہی تو، تو ہی تو، تو ہی توسب کچھ فنا، بس تو ہی توتو ہی تو، تو ہی تو، تو ہی تو

vocal improvisation

مستی میں ڈوب جا، خود کو تو بھول جادروازہ دل کا، بس عشق سے کھول جاسب کچھ مٹا دے، مٹا دے، مٹا دےبس تو ہی رہ جائے، رہ جائے

verse

حقیقت کی تلاش میں، میں کہاں کہاں بھٹکاتیرے ہی عشق نے آخر، مجھے راہ پر ہے اٹکانہ مے خانے کی حاجت، نہ کوئی شیخ و برہمنتیرے ہی نام کی مستی، میری رگوں میں ہے کھٹکایہ دل کا حال کیا کہوں، بس تیری ہی پکار ہےیہ زندگی میری، بس تیرے ہی نام کا نکھار ہے

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ایک ملاپ ہےنہ کوئی میں، نہ کوئی تو، بس اک عجیب تڑپ ہےتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، ہر سو تیرے ہی جلوےمیری روح کی پیاس، بس تیرے ہی نام کا لپ ہے

outro

بس تو ہی تو، بس تو ہی توخاموشیاں، سرگوشیاںسب تیرا ہے، سب تیرا ہےمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی توصرف تو ہی تو، صرف تو ہی تو

عشق کی ڈگر

روحانی سنگت

Preview