ذکرِ مصطفیٰ کا گلستاں
عبدالمصطفیٰ قادری
Naat
About
ایک روح پرور نعت جو ہارمونیئم کی مدھر دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس کلام میں صوتی اتار چڑھاؤ اور جذباتی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ سامعین روحانی سکون محسوس کر سکیں۔
Lyrics
ذکرِ نبی سے روشن یہ دل کا گلستاں ہےان کی محبت ہی تو ایمان کا ساماں ہےلبوں پہ نام اُن کا، آنکھوں میں اُن کی یادیںیہ سانس اُن کے دم سے، یہ زندگی ہی مہرباں ہے
وہ جو آئے تو دنیا میں اجالا ہو گیاخزاں کا دور بدلا، موسمِ گل آ گیایتیموں کے سہارے، غریبوں کے وہ والیاُن کے قدموں سے ہی تو، سب کا مقدر سنور گیا
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، سجدہ ہو تیری چوکھٹ پہتیری ثنا میں ڈوب کر، مٹ جائیں ہم راہِ وفا میںتیرے در کا گدا ہوں، تیری رحمت کا طالببس ایک نظر کی التجا، ہے میری اس دعا میں
مدینے کی وہ گلیاں، وہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیںوہ گنبدِ خضریٰ، وہ پرنور سی فضائیںتڑپتا ہے یہ دل، اُن کے روضے کو دیکھنے کوکاش کہ ہم بھی ہوں وہاں، جہاں بستی ہیں وفائیں
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، سجدہ ہو تیری چوکھٹ پہتیری ثنا میں ڈوب کر، مٹ جائیں ہم راہِ وفا میںتیرے در کا گدا ہوں، تیری رحمت کا طالببس ایک نظر کی التجا، ہے میری اس دعا میں
تیری سیرت ہی تو ہے، انسانیت کا آئینہتیرے اخلاق سے ہی تو، ہوا یہ جہاں سجاتو ہی ہے شافعِ محشر، تو ہی ہے مہرِ درخشاںتیرے ہی دم سے روشن، ہے ہر ایک راستہ
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، سجدہ ہو تیری چوکھٹ پہتیری ثنا میں ڈوب کر، مٹ جائیں ہم راہِ وفا میںتیرے در کا گدا ہوں، تیری رحمت کا طالببس ایک نظر کی التجا، ہے میری اس دعا میں
نام اُن کا، کام اُن کا، ہر سانس میں ہے بس اُن کااُن کی ہی یادوں میں گزرے، زندگی کا ہر لمحہیا نبی، یا نبی، اب تو بلا لیجیے در پہتیرے سوا کوئی نہیں، تو ہی ہے میرا سہارا
ذکرِ مصطفیٰ کا گلستاں
عبدالمصطفیٰ قادری
Preview