Skip to content
Duration5:10

ذکرِ مصطفیٰ کا گلستاں

عبدالمصطفیٰ قادری

Naat

About

ایک روح پرور نعت جو ہارمونیئم کی مدھر دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس کلام میں صوتی اتار چڑھاؤ اور جذباتی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ سامعین روحانی سکون محسوس کر سکیں۔

Lyrics

intro

ذکرِ نبی سے روشن یہ دل کا گلستاں ہےان کی محبت ہی تو ایمان کا ساماں ہےلبوں پہ نام اُن کا، آنکھوں میں اُن کی یادیںیہ سانس اُن کے دم سے، یہ زندگی ہی مہرباں ہے

verse

وہ جو آئے تو دنیا میں اجالا ہو گیاخزاں کا دور بدلا، موسمِ گل آ گیایتیموں کے سہارے، غریبوں کے وہ والیاُن کے قدموں سے ہی تو، سب کا مقدر سنور گیا

refrain

یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، سجدہ ہو تیری چوکھٹ پہتیری ثنا میں ڈوب کر، مٹ جائیں ہم راہِ وفا میںتیرے در کا گدا ہوں، تیری رحمت کا طالببس ایک نظر کی التجا، ہے میری اس دعا میں

verse

مدینے کی وہ گلیاں، وہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیںوہ گنبدِ خضریٰ، وہ پرنور سی فضائیںتڑپتا ہے یہ دل، اُن کے روضے کو دیکھنے کوکاش کہ ہم بھی ہوں وہاں، جہاں بستی ہیں وفائیں

refrain

یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، سجدہ ہو تیری چوکھٹ پہتیری ثنا میں ڈوب کر، مٹ جائیں ہم راہِ وفا میںتیرے در کا گدا ہوں، تیری رحمت کا طالببس ایک نظر کی التجا، ہے میری اس دعا میں

verse

تیری سیرت ہی تو ہے، انسانیت کا آئینہتیرے اخلاق سے ہی تو، ہوا یہ جہاں سجاتو ہی ہے شافعِ محشر، تو ہی ہے مہرِ درخشاںتیرے ہی دم سے روشن، ہے ہر ایک راستہ

refrain

یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، سجدہ ہو تیری چوکھٹ پہتیری ثنا میں ڈوب کر، مٹ جائیں ہم راہِ وفا میںتیرے در کا گدا ہوں، تیری رحمت کا طالببس ایک نظر کی التجا، ہے میری اس دعا میں

outro

نام اُن کا، کام اُن کا، ہر سانس میں ہے بس اُن کااُن کی ہی یادوں میں گزرے، زندگی کا ہر لمحہیا نبی، یا نبی، اب تو بلا لیجیے در پہتیرے سوا کوئی نہیں، تو ہی ہے میرا سہارا

ذکرِ مصطفیٰ کا گلستاں

عبدالمصطفیٰ قادری

Preview