Skip to content
Duration3:40

ہجر کا موسم

سرمندِ خیال

پاکستانی لوک موسیقی

About

یہ گیت مٹی کی سوندھی خوشبو اور ہجر کے درد کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس میں ہارمونیم کی گہری دھنوں کے ساتھ طبلے کی پیچیدہ تال اور مائیکروٹونل آواز کے اتار چڑھاؤ کا امتزاج ہے جو ایک پر اثر صوفیانہ فضا تخلیق کرتا ہے۔

Lyrics

intro

مٹی کی خوشبو سے، دل کا یہ گھر مہکےیادوں کی دہلیز پہ، کوئی دیا دھڑکےسُونے صحراؤں میں، پیاس کی ہے لہرروح کی وادی میں، چھایا ہے یہ قہر

verse

گلیوں کے موڑوں پر، بچپن کا وہ سایہہم نے تو ہجروں میں، اپنا آپ پایاکھیتوں کی منڈیروں پہ، دھوپ کا بسیراتیرے ہی دم سے ہے، روشن یہ اندھیراہاتھوں کی لکیروں میں، تیرا ہی نام لکھاخوابوں کی بستی میں، ہم نے ہے دل رکھا

chorus

آ جا کہ اب تو، سانسیں بھی بوجھل ہیںتیری محبت کے، قصے ہی اوجھل ہیںدرد کی چادر میں، لپٹی ہوئی ہے جانتجھ سے ہی تو ہے، یہ میری کل پہچاناو رت جگے، او بستی کے پیارےٹوٹ گئے سب، امیدوں کے تارے

instrumental-break
verse

رات کے پہروں میں، تارے بھی روتے ہیںہم تو تیرے غم میں، خود سے ہی کھوتے ہیںکون سنے گا اب، دل کی یہ فریادیںمٹی میں دفن ہیں، سب پرانی یادیںپھولوں کی رنگت میں، تیرا ہی عکس ہےتیرے بن جینا، اک خود ساختہ رقص ہے

climax

اے میرے ہمدم، اے میرے ہم سفردیکھ تو سہی، یہ ٹوٹا ہوا گھرصدائیں تیری، اب تک گونجتی ہیںخوابوں میں آ کے، سانسیں ڈھونڈتی ہیںآ جا اب تو، کہ وقت کا پہیہ تھم گیاتیرے بن تو، ہر موسم ہی غم گیا

chorus

آ جا کہ اب تو، سانسیں بھی بوجھل ہیںتیری محبت کے، قصے ہی اوجھل ہیںدرد کی چادر میں، لپٹی ہوئی ہے جانتجھ سے ہی تو ہے، یہ میری کل پہچاناو رت جگے، او بستی کے پیارےٹوٹ گئے سب، امیدوں کے تارے

outro

خاموشیوں میں، تیرا ہی شور ہےدل کو اب، کس کا انتظار اور ہےبس اک تو ہی، میری آخری پکارمٹی سے مٹی تک، تیرا ہی پیارتیرا ہی پیار، بس تیرا ہی پیار

ہجر کا موسم

سرمندِ خیال

Preview