حق موجود
فقیرِ فیوژن
قوالی فیوژن
About
یہ ٹریک روایتی قوالی کی روحانی شدت اور جدید الیکٹرانک بیٹس کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس میں ہارمونیم کی گہری دھنوں، تالیوں کی تھاپ، اور صوفیانہ کلام کو جدید پروڈکشن اور گٹار کے ساتھ پرویا گیا ہے، جو ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، تجھ سے ہی بجھتی ہےتو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے
میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر تھاتیری یادوں کے صحرا میں گم صم تھاکوئی رستہ نہ تھا، کوئی منزل نہ تھیبس اندھیروں کی اک لمبی محفل تھیپھر تیری ایک جھلک نے سب بدل دیامیری ہستی کو مٹا کر، مجھے سنبھال لیا
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس عشق کی آگ میں، میں جلتا ہوںتجھ سے ہی آغاز، تجھ پہ ہی اختتاماے میرے محبوب، تیرا ہی ہے ناممجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں
ہائے رے عشق، ہائے رے پیاتیری طلب میں، میں تو جیامدد کر، اے میرے مولاحقیقت دکھا، اے میرے مولا
خود کو مٹایا تو تجھ کو پایااپنی انا کو میں نے پیچھے چھوڑ آیااب نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہتو ہی تو ہے، تو ہی ہے ہر ایک سلسلہمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھ میںمیں بھی ہوں کھویا، تیرے ساتھ میں
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس عشق کی آگ میں، میں جلتا ہوںتجھ سے ہی آغاز، تجھ پہ ہی اختتاماے میرے محبوب، تیرا ہی ہے ناممجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں
تو ہی ہے، تو ہی ہےدل کی ہر دھڑکن میں، تو ہی ہےتو ہی ہے، تو ہی ہےمیری ہر سوچ میں، تو ہی ہے
سب مٹ جائے گا، صرف تو رہے گامیرا دل بس تیرا ہی نام لے گاحق، حق، حق، حق، حق، حقحق موجود، سدا موجود
خاموشی میں بھی تیرا ہی چرچا ہےمیری روح کو اب، تیرا ہی پرواہ ہےتو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیں تو نہیں، بس تو ہی تو ہے
حق موجود
فقیرِ فیوژن
Preview