Skip to content
حق موجود
Duration4:10

حق موجود

فقیرِ فیوژن

قوالی فیوژن

About

یہ ٹریک روایتی قوالی کی روحانی شدت اور جدید الیکٹرانک بیٹس کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس میں ہارمونیم کی گہری دھنوں، تالیوں کی تھاپ، اور صوفیانہ کلام کو جدید پروڈکشن اور گٹار کے ساتھ پرویا گیا ہے، جو ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، تجھ سے ہی بجھتی ہےتو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے

verse

میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر تھاتیری یادوں کے صحرا میں گم صم تھاکوئی رستہ نہ تھا، کوئی منزل نہ تھیبس اندھیروں کی اک لمبی محفل تھیپھر تیری ایک جھلک نے سب بدل دیامیری ہستی کو مٹا کر، مجھے سنبھال لیا

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس عشق کی آگ میں، میں جلتا ہوںتجھ سے ہی آغاز، تجھ پہ ہی اختتاماے میرے محبوب، تیرا ہی ہے ناممجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں

vocal improvisation

ہائے رے عشق، ہائے رے پیاتیری طلب میں، میں تو جیامدد کر، اے میرے مولاحقیقت دکھا، اے میرے مولا

verse

خود کو مٹایا تو تجھ کو پایااپنی انا کو میں نے پیچھے چھوڑ آیااب نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہتو ہی تو ہے، تو ہی ہے ہر ایک سلسلہمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھ میںمیں بھی ہوں کھویا، تیرے ساتھ میں

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس عشق کی آگ میں، میں جلتا ہوںتجھ سے ہی آغاز، تجھ پہ ہی اختتاماے میرے محبوب، تیرا ہی ہے ناممجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں

drop

تو ہی ہے، تو ہی ہےدل کی ہر دھڑکن میں، تو ہی ہےتو ہی ہے، تو ہی ہےمیری ہر سوچ میں، تو ہی ہے

vocal improvisation

سب مٹ جائے گا، صرف تو رہے گامیرا دل بس تیرا ہی نام لے گاحق، حق، حق، حق، حق، حقحق موجود، سدا موجود

outro

خاموشی میں بھی تیرا ہی چرچا ہےمیری روح کو اب، تیرا ہی پرواہ ہےتو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیں تو نہیں، بس تو ہی تو ہے

حق موجود

فقیرِ فیوژن

Preview

حق موجود by فقیرِ فیوژن | EchoLoRA: Generate a Song with AI