تجھ پہ ہی اختتام
دل کے درویش
صوفی راک
About
یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کی گونج شامل ہے۔ گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ شاعری کا اظہار کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہماپنے ہی وجود سے نکل گئے ہم
کبھی ڈھونڈا اسے مے خانے کی گلیوں میںکبھی پایا اسے ٹوٹے ہوئے دل کے سینوں میںنہ کوئی فاصلہ ہے نہ کوئی پردہ رہاوہ تو بستا ہے میری رگوں کی لہروں میں
میں مٹ گیا تو وہ مل گیاخود کو کھویا تو وہ کھل گیا
اے میرے مالک، اے میرے یارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتاممیری سانسوں میں تیری ہی پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتام
یہ کائنات ایک خواب ہے، تو حقیقت ہےمیری ہر دعا، میری ہر عبادت ہےمیں تو ایک ذرہ ہوں تیری وسعت کاتجھے پانا ہی میری سب سے بڑی دولت ہے
نہ کوئی ذات، نہ کوئی رنگ، نہ کوئی نامسب کچھ فنا ہے، بس تیرا ہی مقاممیری ہستی کا ہر ذرہ پکارے تجھےاے میرے مولیٰ، کر دے اب یہ کام
اے میرے مالک، اے میرے یارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتاممیری سانسوں میں تیری ہی پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتام
تجھ میں ہی کھو گئےہم تو تیرے ہو گئےتجھ میں ہی کھو گئےہم تو تیرے ہو گئے
تجھ پہ ہی اختتام
دل کے درویش
Preview