Skip to content
Duration4:55

تجھ پہ ہی اختتام

دل کے درویش

صوفی راک

About

یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کی گونج شامل ہے۔ گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ شاعری کا اظہار کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

Intro

تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہماپنے ہی وجود سے نکل گئے ہم

Verse

کبھی ڈھونڈا اسے مے خانے کی گلیوں میںکبھی پایا اسے ٹوٹے ہوئے دل کے سینوں میںنہ کوئی فاصلہ ہے نہ کوئی پردہ رہاوہ تو بستا ہے میری رگوں کی لہروں میں

Pre-Chorus

میں مٹ گیا تو وہ مل گیاخود کو کھویا تو وہ کھل گیا

Chorus

اے میرے مالک، اے میرے یارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتاممیری سانسوں میں تیری ہی پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتام

Verse

یہ کائنات ایک خواب ہے، تو حقیقت ہےمیری ہر دعا، میری ہر عبادت ہےمیں تو ایک ذرہ ہوں تیری وسعت کاتجھے پانا ہی میری سب سے بڑی دولت ہے

Instrumental-Solo
Bridge

نہ کوئی ذات، نہ کوئی رنگ، نہ کوئی نامسب کچھ فنا ہے، بس تیرا ہی مقاممیری ہستی کا ہر ذرہ پکارے تجھےاے میرے مولیٰ، کر دے اب یہ کام

Chorus

اے میرے مالک، اے میرے یارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتاممیری سانسوں میں تیری ہی پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتام

Outro

تجھ میں ہی کھو گئےہم تو تیرے ہو گئےتجھ میں ہی کھو گئےہم تو تیرے ہو گئے

تجھ پہ ہی اختتام

دل کے درویش

Preview