Skip to content
Duration3:00

دیوانہ تیری گلی کا

استاد فریدِ قادری

قوالی

About

یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کے گہرے سسٹین اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گیت میں کال اینڈ ریسپانس ووکلز اور روایتی تالیوں کے ساتھ ایک پرجوش کریسینڈو تخلیق کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبے ہیں سب یہاںدل کا ہر گوشہ ہے اک جہاںنام تیرا ہی لیتے ہیں لبتیرے عشق میں کھوئے ہیں اب

verse

میں تو دیوانہ تیری گلی کاموسم بدلا ہے میری خوشی کاذکر تیرا جب بھی چھیڑا ہم نےدامن بھر لیا ہے ہر اک کمی کاآنکھوں میں تیری تصویر سجی ہےسانسوں میں تیری ہی خوشبو بسی ہےمیں تو مٹی ہوں تیرے در کیمیری ہستی تیرے نام سے جڑی ہے

chorus

محبوبِ رب، تو ہے نورِ نظرتجھ پہ فدا ہے یہ شام و سحرتیرے عشق میں جلنا ہی جینا ہےتیرے ہجر کا زہر بھی پینا ہےتو ہی ہے منزل، تو ہی ہے راستہتیرے سوا اب کوئی نہ واسطہ

verse

دنیا کے قصے سب خواب لگتے ہیںتیرے قریب اب ہم نایاب لگتے ہیںچھوڑ کر سب کچھ تیرے در پہ آئےتیری محبت میں خود کو مٹائےکبھی تو آئے گا خوابوں کی بستیدیکھ لے آ کر میری یہ خستہ ہستیتیرے کرم کی اک نظر مل جائےمیری بنجر روح پھر سے کھل جائے

improvisation

ہو... حق علی...تیرا ہی نام، تیرا ہی کامسجدے میں ہم، تیرے ہی ناممستی میں چور، دل ہے مجبوردوری نہیں، تو ہے کتنا دور؟آ جا، آ جا، دل میں سما جااپنی جھلک سے، دنیا جگا جا

crescendo

تیرے عشق میں ڈوب کر پار ہوناتیرے نام پہ اپنا سب وار دینایہی تو ہے بندگی، یہی تو ہے دینتیرے بغیر سب کچھ ہے غمگینتیری چاہت کا دریا بہتا رہےمیرا دل بس تیرا ہی کہتا رہےمٹا دے مجھے، اپنا بنا لےاپنے ہی رنگ میں مجھ کو رنگا لے

outro

نام تیرا ہی لیتے رہیں گےعشق میں تیرے جیتے رہیں گےحق... حق...تیرے ہی دم سے ہے یہ جہاںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...

دیوانہ تیری گلی کا

استاد فریدِ قادری

Preview

دیوانہ تیری گلی کا by استاد فریدِ قادری | EchoLoRA: Generate a Song with AI