دیوانہ تیری گلی کا
استاد فریدِ قادری
قوالی
About
یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کے گہرے سسٹین اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گیت میں کال اینڈ ریسپانس ووکلز اور روایتی تالیوں کے ساتھ ایک پرجوش کریسینڈو تخلیق کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہیں سب یہاںدل کا ہر گوشہ ہے اک جہاںنام تیرا ہی لیتے ہیں لبتیرے عشق میں کھوئے ہیں اب
میں تو دیوانہ تیری گلی کاموسم بدلا ہے میری خوشی کاذکر تیرا جب بھی چھیڑا ہم نےدامن بھر لیا ہے ہر اک کمی کاآنکھوں میں تیری تصویر سجی ہےسانسوں میں تیری ہی خوشبو بسی ہےمیں تو مٹی ہوں تیرے در کیمیری ہستی تیرے نام سے جڑی ہے
محبوبِ رب، تو ہے نورِ نظرتجھ پہ فدا ہے یہ شام و سحرتیرے عشق میں جلنا ہی جینا ہےتیرے ہجر کا زہر بھی پینا ہےتو ہی ہے منزل، تو ہی ہے راستہتیرے سوا اب کوئی نہ واسطہ
دنیا کے قصے سب خواب لگتے ہیںتیرے قریب اب ہم نایاب لگتے ہیںچھوڑ کر سب کچھ تیرے در پہ آئےتیری محبت میں خود کو مٹائےکبھی تو آئے گا خوابوں کی بستیدیکھ لے آ کر میری یہ خستہ ہستیتیرے کرم کی اک نظر مل جائےمیری بنجر روح پھر سے کھل جائے
ہو... حق علی...تیرا ہی نام، تیرا ہی کامسجدے میں ہم، تیرے ہی ناممستی میں چور، دل ہے مجبوردوری نہیں، تو ہے کتنا دور؟آ جا، آ جا، دل میں سما جااپنی جھلک سے، دنیا جگا جا
تیرے عشق میں ڈوب کر پار ہوناتیرے نام پہ اپنا سب وار دینایہی تو ہے بندگی، یہی تو ہے دینتیرے بغیر سب کچھ ہے غمگینتیری چاہت کا دریا بہتا رہےمیرا دل بس تیرا ہی کہتا رہےمٹا دے مجھے، اپنا بنا لےاپنے ہی رنگ میں مجھ کو رنگا لے
نام تیرا ہی لیتے رہیں گےعشق میں تیرے جیتے رہیں گےحق... حق...تیرے ہی دم سے ہے یہ جہاںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...
دیوانہ تیری گلی کا
استاد فریدِ قادری
Preview