Skip to content
مجھ میں تو، تجھ میں میں
Duration5:25

مجھ میں تو، تجھ میں میں

شمس الدین چشتی

Qawwali

About

ایک جذباتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے سسٹین اور طبلے کی پیچیدہ تالوں سے مزین ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جوشیلے کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ روحانی وجد کی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔

Lyrics

intro

مجھ میں تو ہی، تجھ میں میں، بس یہی اک بات ہےتجھ سے شروع، تجھ پہ ختم، میری ہر اک رات ہےعشق کی یہ آگ ایسی، بجھتی نہیں یہ کبھیجس نے جانا اس کو سمجھو، مل گئی سب ذات ہے

verse

در بدر میں ڈھونڈتا تھا، خود کو اپنی نظر میںآنکھ کھلی تو دیکھا تجھ کو، اپنی ہی اک ڈگر میںمیں تو اک آئینہ تھا، تو نے تصویر بنا دیکھو گیا میں تجھ میں ایسے، جیسے قطرہ سمندر میں

chorus

مے نوشیِ الفت میں، اب ہوش کہاں باقی ہےتیرے نام کی مستی میں، سب کچھ ہی تو ساقی ہےمیں بھی تو ہوں، تو بھی تو ہے، پردہ یہ ہٹ جانے دومیرے دل کی دھڑکن میں، بس تیری ہی حامی ہے

verse

کون جانے کیا ہے منزل، کون جانے کیا ہے راہمیں تو بس چلتا رہا، کر کے تیری اک نگاہپتھروں میں بھی تو ہے، ذرے ذرے میں تو ہےپھر بھی کیوں بھٹکیں ہم، مانگیں تجھ سے پناہ

improvisation

یا رب، یا رب، تیری دہلیز پہ سر ہے میرایا رب، یا رب، تیرا ہی تو گھر ہے میرانہ کوئی خواہش، نہ کوئی طلب، نہ کوئی جستجوبس تو ہی تو، بس تو ہی تو، بس تو ہی تو

crescendo

جل اٹھا ہے ذرہ ذرہ، نور کی اس بارش سےمٹ گئی ہے دوری اب، وصل کی اس کاوش سےمیں نہ رہا، تو نہ رہا، بس ایک ہی رنگ باقی ہےعشق کی اس منزل میں، اب کوئی نہیں ہے فاصلے

chorus

مے نوشیِ الفت میں، اب ہوش کہاں باقی ہےتیرے نام کی مستی میں، سب کچھ ہی تو ساقی ہےمیں بھی تو ہوں، تو بھی تو ہے، پردہ یہ ہٹ جانے دومیرے دل کی دھڑکن میں، بس تیری ہی حامی ہے

verse

وقت کی یہ قید کیا ہے، لمحوں کا یہ کھیل کیاتیرے عشق میں ڈوب کر، دیکھا ہے اک میل ساموت بھی تو زندگی ہے، اس راہِ فنا میںمٹ کے ہی تو پایا ہے، وہ سب کچھ جو ہے لا حاصل

improvisation

مست ہوا، میں مست ہواتیری یاد کی خوشبو میں، میں مست ہوانہ کوئی غم، نہ کوئی ڈر، نہ کوئی سوچ رہیتیرے دیدار کی تڑپ میں، بس مست ہوا

crescendo

شور بپا ہے دل کے اندر، ایک نیا طوفان ہےتیرے قرب کی لذت میں، کھویا میرا جہان ہےسب کچھ تجھ پہ وار دیا، اب تو ہی میرا مالک ہےمیری روح کی گہرائی میں، تیرا ہی تو نشان ہے

outro

بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےذرے ذرے میں، دل کے خانے میںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےتجھ میں گم، تجھ میں فنا، بس تو ہی تو ہے

مجھ میں تو، تجھ میں میں

شمس الدین چشتی

Preview

مجھ میں تو، تجھ میں میں by شمس الدین چشتی | EchoLoRA: Generate a Song with AI