مجھ میں تو، تجھ میں میں
شمس الدین چشتی
Qawwali
About
ایک جذباتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے سسٹین اور طبلے کی پیچیدہ تالوں سے مزین ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جوشیلے کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ روحانی وجد کی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔
Lyrics
مجھ میں تو ہی، تجھ میں میں، بس یہی اک بات ہےتجھ سے شروع، تجھ پہ ختم، میری ہر اک رات ہےعشق کی یہ آگ ایسی، بجھتی نہیں یہ کبھیجس نے جانا اس کو سمجھو، مل گئی سب ذات ہے
در بدر میں ڈھونڈتا تھا، خود کو اپنی نظر میںآنکھ کھلی تو دیکھا تجھ کو، اپنی ہی اک ڈگر میںمیں تو اک آئینہ تھا، تو نے تصویر بنا دیکھو گیا میں تجھ میں ایسے، جیسے قطرہ سمندر میں
مے نوشیِ الفت میں، اب ہوش کہاں باقی ہےتیرے نام کی مستی میں، سب کچھ ہی تو ساقی ہےمیں بھی تو ہوں، تو بھی تو ہے، پردہ یہ ہٹ جانے دومیرے دل کی دھڑکن میں، بس تیری ہی حامی ہے
کون جانے کیا ہے منزل، کون جانے کیا ہے راہمیں تو بس چلتا رہا، کر کے تیری اک نگاہپتھروں میں بھی تو ہے، ذرے ذرے میں تو ہےپھر بھی کیوں بھٹکیں ہم، مانگیں تجھ سے پناہ
یا رب، یا رب، تیری دہلیز پہ سر ہے میرایا رب، یا رب، تیرا ہی تو گھر ہے میرانہ کوئی خواہش، نہ کوئی طلب، نہ کوئی جستجوبس تو ہی تو، بس تو ہی تو، بس تو ہی تو
جل اٹھا ہے ذرہ ذرہ، نور کی اس بارش سےمٹ گئی ہے دوری اب، وصل کی اس کاوش سےمیں نہ رہا، تو نہ رہا، بس ایک ہی رنگ باقی ہےعشق کی اس منزل میں، اب کوئی نہیں ہے فاصلے
مے نوشیِ الفت میں، اب ہوش کہاں باقی ہےتیرے نام کی مستی میں، سب کچھ ہی تو ساقی ہےمیں بھی تو ہوں، تو بھی تو ہے، پردہ یہ ہٹ جانے دومیرے دل کی دھڑکن میں، بس تیری ہی حامی ہے
وقت کی یہ قید کیا ہے، لمحوں کا یہ کھیل کیاتیرے عشق میں ڈوب کر، دیکھا ہے اک میل ساموت بھی تو زندگی ہے، اس راہِ فنا میںمٹ کے ہی تو پایا ہے، وہ سب کچھ جو ہے لا حاصل
مست ہوا، میں مست ہواتیری یاد کی خوشبو میں، میں مست ہوانہ کوئی غم، نہ کوئی ڈر، نہ کوئی سوچ رہیتیرے دیدار کی تڑپ میں، بس مست ہوا
شور بپا ہے دل کے اندر، ایک نیا طوفان ہےتیرے قرب کی لذت میں، کھویا میرا جہان ہےسب کچھ تجھ پہ وار دیا، اب تو ہی میرا مالک ہےمیری روح کی گہرائی میں، تیرا ہی تو نشان ہے
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےذرے ذرے میں، دل کے خانے میںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےتجھ میں گم، تجھ میں فنا، بس تو ہی تو ہے
مجھ میں تو، تجھ میں میں
شمس الدین چشتی
Preview