یادوں کا گہرا اندھیرا
فراق سرمد
پاکستانی فلمی موسیقی
About
یہ گیت کلاسیکی راگوں اور جدید سنیما آرکسٹریشن کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور وائلن کی گہری دھنیں جذباتی کیفیت کو بڑھاتی ہیں۔ اس میں ایک مرد گلوکاری کا جذباتی انداز ہے جو تنہائی اور یادوں کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کے شہر میں، اک خواب سا بکھرا ہواپلکوں کے گوشے میں کہیں، اک عکس سا ٹھہرا ہوا
تیری گلی سے گزرے ہوئے اک عمر بیت گئیوہ جو تیرے در پہ رکی تھی، وہ شام بھی بیت گئیہوا کے جھونکوں میں اب بھی تیری خوشبو کا بسیرا ہےمیری آنکھوں میں تیرے یادوں کا گہرا اندھیرا ہےکبھی تو لوٹ کے آؤ، کہ دل کی دھڑکنیں پکاریںتیرے بنا تو یہ زندگی ہے جیسے ویران سی کیاریں
آسماں پہ لکھے تھے جو ہم نے، وہ وعدے کہاں گئے؟سہانے موسموں کے وہ سارے ارادے کہاں گئے؟
تجھ سے بچھڑ کر، ہم خود سے ہی دور ہوئےتیری چاہت کے رنگوں میں، ہم مجبور ہوئےاے کاش کہ پلٹ آئے وہ بیتے ہوئے دن سارےتیرے بن اب تو ادھورے لگتے ہیں یہ چاند ستارے
وہ تیری ہنسی کی چھنکار، جیسے کوئی گیت پرانامیرے دل کے نہاں خانے میں، تیرا ہی ہے ٹھکانہمیں نے ڈھونڈا ہے تجھے ہر اک موڑ کی تنہائی میںتو بسا ہے میری سانسوں کی ہر اک گہرائی میںفاصلے بڑھ گئے ہیں اب، پر دل کا رشتہ وہی ہےتیری یادوں کا کارواں، اب بھی تو جاری ہے
وقت کی لہروں نے شاید، ہمیں کہیں بہا دیاتیرے وجود کو ہم نے، خود میں ہی چھپا لیانہ کوئی شکوہ رہا، نہ اب کوئی شکایت ہےتیرے بغیر جینا، بس اک روایت ہے
تجھ سے بچھڑ کر، ہم خود سے ہی دور ہوئےتیری چاہت کے رنگوں میں، ہم مجبور ہوئےاے کاش کہ پلٹ آئے وہ بیتے ہوئے دن سارےتیرے بن اب تو ادھورے لگتے ہیں یہ چاند ستارے
اب تو بس تیری یادوں کا ہی سہارا ہےاس دل کے ویرانے میں، تو ہی تو ہمارا ہےلوٹ آؤ... بس ایک بار لوٹ آؤ...خوابوں کے اس سفر میں، اب تو لوٹ آؤ...
یادوں کا گہرا اندھیرا
فراق سرمد
Preview