Skip to content
♪
Duration3:51

یادوں کا گہرا اندھیرا

فراق سرمد

پاکستانی فلمی موسیقی

About

یہ گیت کلاسیکی راگوں اور جدید سنیما آرکسٹریشن کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور وائلن کی گہری دھنیں جذباتی کیفیت کو بڑھاتی ہیں۔ اس میں ایک مرد گلوکاری کا جذباتی انداز ہے جو تنہائی اور یادوں کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تنہائیوں کے شہر میں، اک خواب سا بکھرا ہواپلکوں کے گوشے میں کہیں، اک عکس سا ٹھہرا ہوا

verse

تیری گلی سے گزرے ہوئے اک عمر بیت گئیوہ جو تیرے در پہ رکی تھی، وہ شام بھی بیت گئیہوا کے جھونکوں میں اب بھی تیری خوشبو کا بسیرا ہےمیری آنکھوں میں تیرے یادوں کا گہرا اندھیرا ہےکبھی تو لوٹ کے آؤ، کہ دل کی دھڑکنیں پکاریںتیرے بنا تو یہ زندگی ہے جیسے ویران سی کیاریں

pre-chorus

آسماں پہ لکھے تھے جو ہم نے، وہ وعدے کہاں گئے؟سہانے موسموں کے وہ سارے ارادے کہاں گئے؟

chorus

تجھ سے بچھڑ کر، ہم خود سے ہی دور ہوئےتیری چاہت کے رنگوں میں، ہم مجبور ہوئےاے کاش کہ پلٹ آئے وہ بیتے ہوئے دن سارےتیرے بن اب تو ادھورے لگتے ہیں یہ چاند ستارے

verse

وہ تیری ہنسی کی چھنکار، جیسے کوئی گیت پرانامیرے دل کے نہاں خانے میں، تیرا ہی ہے ٹھکانہمیں نے ڈھونڈا ہے تجھے ہر اک موڑ کی تنہائی میںتو بسا ہے میری سانسوں کی ہر اک گہرائی میںفاصلے بڑھ گئے ہیں اب، پر دل کا رشتہ وہی ہےتیری یادوں کا کارواں، اب بھی تو جاری ہے

bridge

وقت کی لہروں نے شاید، ہمیں کہیں بہا دیاتیرے وجود کو ہم نے، خود میں ہی چھپا لیانہ کوئی شکوہ رہا، نہ اب کوئی شکایت ہےتیرے بغیر جینا، بس اک روایت ہے

instrumental-break
chorus

تجھ سے بچھڑ کر، ہم خود سے ہی دور ہوئےتیری چاہت کے رنگوں میں، ہم مجبور ہوئےاے کاش کہ پلٹ آئے وہ بیتے ہوئے دن سارےتیرے بن اب تو ادھورے لگتے ہیں یہ چاند ستارے

outro

اب تو بس تیری یادوں کا ہی سہارا ہےاس دل کے ویرانے میں، تو ہی تو ہمارا ہےلوٹ آؤ... بس ایک بار لوٹ آؤ...خوابوں کے اس سفر میں، اب تو لوٹ آؤ...

یادوں کا گہرا اندھیرا

فراق سرمد

Preview