Skip to content
♪
Duration4:52

حقیقتِ وصل

سید شاہد علی شاہ

قوالی

About

یہ کلام ایک روایتی قوالی ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور تبلے کی تیز تال کے ساتھ روحانی وجد کی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس انداز میں تالیوں کی تھاپ اور جذباتی آوازوں کا امتزاج ہے جو سامعین کو ایک مراقبہ جیسی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا سوالی ہوں میں، اے میرے مولامیری سانسوں میں تیرا ہی ذکر، اے میرے مولاکبھی خود سے ملا دے مجھے، یا خود میں چھپا لےمیں تیرے عشق کی آگ میں، جل کر مٹا لے

verse

میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر ہوں کب سےتلاش اپنی گمشدہ منزل میں ہوں کب سےنہ کوئی ٹھکانہ، نہ کوئی میرا سایہتیرے ہی نام کا تعویذ گلے میں لٹکایامیری ہستی تو بس تیری ہی مرضی کا اک عکس ہےمیرا ہر ایک سانس، تیری ہی عطاؤں کا رقص ہے

chorus

تیرے عشق میں ڈوب کر، میں خود کو پا لوںتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کے، میں سب کچھ بھلا دوںاے میرے دلبر، اے میرے رہبرتیرے سوا کوئی نہیں، تیرے سوا کوئی نہیں

rhythmic-break

ہو... حق، حق، حقہو... حق، حق، حقتیرے ذکر سے روشن ہے، یہ ویران سا آنگنتیری یاد میں مہکے ہے، یہ روح کا دامن

verse

کبھی خود کو مٹانا، کبھی خود کو بنانایہی تو ہے عشق کا، وہ انوکھا فسانانہ کوئی فاصلہ رہے، نہ کوئی پردہ درمیانبس تو ہی تو نظر آئے، جہاں بھی دیکھوں میں جانمیں تو مٹی کا پتلا ہوں، تو ہی میری حقیقتتجھے پانے کی ضد ہے، یہی میری طریقت

crescendo

میں فنا ہو جاؤں تیرے جلووں کے نور میںمیں کھو جاؤں تیرے عشق کے اس سمندر میںتیرا نام میری زبان پہ، تیرا ہی خیال میرے دل میںاب تو آ جا میری روح کے، ہر ایک پل میںحق، حق، حق، حق، حق، حقتو ہی ہے، تو ہی ہے، تو ہی ہے

outro

تیرے در پہ پڑا ہوں، اب اٹھنے کا نہیںتیرے عشق کا نشہ، کبھی اترنے کا نہیںبس تو ہی، بس تو ہی، بس تو ہیمیں مٹا، میں مٹا، میں مٹاحق... حق... حق...

حقیقتِ وصل

سید شاہد علی شاہ

Preview