حقیقتِ وصل
سید شاہد علی شاہ
قوالی
About
یہ کلام ایک روایتی قوالی ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور تبلے کی تیز تال کے ساتھ روحانی وجد کی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس انداز میں تالیوں کی تھاپ اور جذباتی آوازوں کا امتزاج ہے جو سامعین کو ایک مراقبہ جیسی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا سوالی ہوں میں، اے میرے مولامیری سانسوں میں تیرا ہی ذکر، اے میرے مولاکبھی خود سے ملا دے مجھے، یا خود میں چھپا لےمیں تیرے عشق کی آگ میں، جل کر مٹا لے
میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر ہوں کب سےتلاش اپنی گمشدہ منزل میں ہوں کب سےنہ کوئی ٹھکانہ، نہ کوئی میرا سایہتیرے ہی نام کا تعویذ گلے میں لٹکایامیری ہستی تو بس تیری ہی مرضی کا اک عکس ہےمیرا ہر ایک سانس، تیری ہی عطاؤں کا رقص ہے
تیرے عشق میں ڈوب کر، میں خود کو پا لوںتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کے، میں سب کچھ بھلا دوںاے میرے دلبر، اے میرے رہبرتیرے سوا کوئی نہیں، تیرے سوا کوئی نہیں
ہو... حق، حق، حقہو... حق، حق، حقتیرے ذکر سے روشن ہے، یہ ویران سا آنگنتیری یاد میں مہکے ہے، یہ روح کا دامن
کبھی خود کو مٹانا، کبھی خود کو بنانایہی تو ہے عشق کا، وہ انوکھا فسانانہ کوئی فاصلہ رہے، نہ کوئی پردہ درمیانبس تو ہی تو نظر آئے، جہاں بھی دیکھوں میں جانمیں تو مٹی کا پتلا ہوں، تو ہی میری حقیقتتجھے پانے کی ضد ہے، یہی میری طریقت
میں فنا ہو جاؤں تیرے جلووں کے نور میںمیں کھو جاؤں تیرے عشق کے اس سمندر میںتیرا نام میری زبان پہ، تیرا ہی خیال میرے دل میںاب تو آ جا میری روح کے، ہر ایک پل میںحق، حق، حق، حق، حق، حقتو ہی ہے، تو ہی ہے، تو ہی ہے
تیرے در پہ پڑا ہوں، اب اٹھنے کا نہیںتیرے عشق کا نشہ، کبھی اترنے کا نہیںبس تو ہی، بس تو ہی، بس تو ہیمیں مٹا، میں مٹا، میں مٹاحق... حق... حق...
حقیقتِ وصل
سید شاہد علی شاہ
Preview