ہجر کا حاصل
ارمان قاضی
غزل
About
ایک کلاسیکی غزل جس میں ہارمونیم کی دلگداز دھن اور طبلہ کے روایتی تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے جذبات کی گہرائی اور شاعری کے ہر لفظ کی نفاست کو نمایاں کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ دل دھڑکنے لگا ہےخواب کی تعبیر کا لمحہ اب قریب آنے لگا ہےکبھی تو سوچو کہ کیا حال ہے اس دیوانے کاتیرے ہجر میں جو ہر پل خود سے ہی لڑنے لگا ہے
میری آنکھوں میں جو تیرے ہی خواب بسے ہیںوہ اشک بن کر اب پلکوں سے گرنے لگے ہیںتیرے نام کی تسبیح پڑھتے ہیں ہم رات بھرتیری یادوں کے موسم اب دل میں اترنے لگے ہیں
وہ جو کبھی ہم نے ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھاوقت کی دھول میں وہ سب نقش مٹنے لگے ہیںکبھی جو مسکراہٹیں بانٹتے تھے ہم دونوںآج وہی خوشیاں اب تنہائی میں ڈھلنے لگی ہیں
ستاروں کی محفل میں تیرا ذکر چھیڑا ہم نےآسمان کے فرشتے بھی اب رونے لگے ہیںمیں نے اپنی روح کو تیرے نام کر دیا تھااب وہی روح مجھ سے خود ہی الجھنے لگی ہے
میری آنکھوں میں جو تیرے ہی خواب بسے ہیںوہ اشک بن کر اب پلکوں سے گرنے لگے ہیںتیرے نام کی تسبیح پڑھتے ہیں ہم رات بھرتیری یادوں کے موسم اب دل میں اترنے لگے ہیں
کبھی جو گلاب کھلتے تھے میرے آنگن میںاب وہاں صرف کانٹے ہی پنپنے لگے ہیںتیری دوری کا زہر رگوں میں دوڑتا ہےاور ہم ہیں کہ زندگی کو جینے لگے ہیں
کوئی تو بتائے کہ یہ کیسا سفر ہے میراجس کی منزل پر اب اندھیرے چھانے لگے ہیںتیری محبت کا قرض چکانا باقی ہے ابھیاور ہم زندگی کی کتاب کو لپیٹنے لگے ہیں
تیرے آنے کی آہٹ اب سنائی نہیں دیتیتیرے جانے کے بعد اب یہ چراغ بجھنے لگے ہیںبس تیری یادوں کا اک دیا جلائے رکھا ہےاور اب ہم خود میں ہی کھونے لگے ہیں
ہجر کا حاصل
ارمان قاضی
Preview