تلاشِ ذات
ظاہرِ باطن
صوفی راک
About
یہ گانا ایک طاقتور صوفی راک کمپوزیشن ہے جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید الیکٹرک گٹار کی ڈسٹارشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس میں جذباتی اور بلند آواز میں گائی گئی شاعری شامل ہے جو روحانی وجد اور اندرونی تلاش کے سفر کو بیان کرتی ہے۔
Lyrics
میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہتلاشِ ذات میں گم، میرا ہر ایک واسطہ
میرے اندر کی بستی میں شور مچا ہے کتناخودی کے بت کو توڑنے کا وقت ہوا ہے کتنامیں ڈھونڈتا رہا جسے باہر کی سمت میں کبھیوہ میرے دل کے روزن سے جھانک رہا ہے کتنا
آنکھیں بند کروں تو تیرا عکس نظر آتا ہےسانسوں کی ہر لہر میں تیرا نام گنگناتا ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری محبت کی آگ میں جل کے، ہوا ہوں میں روشنمیری ہستی مٹ جائے، بس تیرا نام رہ جائےمیری روح کی پیاس، تیرے در پہ ہی بجھ جائے
نہ کوئی مسجد، نہ کوئی مندر، نہ کوئی قیدِ مکاںتیرے عشق کی وسعت میں، سمٹا ہے سارا جہاںمیں مٹی کا ایک ذرہ، تو ہے نورِ ازلتجھ سے شروع، تجھ پہ ختم، یہ میرا کارواں
آنکھیں بند کروں تو تیرا عکس نظر آتا ہےسانسوں کی ہر لہر میں تیرا نام گنگناتا ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری محبت کی آگ میں جل کے، ہوا ہوں میں روشنمیری ہستی مٹ جائے، بس تیرا نام رہ جائےمیری روح کی پیاس، تیرے در پہ ہی بجھ جائے
میں کیا ہوں؟ صرف ایک خیالِ فانیتو ہے حقیقت، تو ہے سچائی، تو ہی زندگانیتجھ میں فنا ہونے کا مزہ ہی کچھ اور ہےتجھ میں بقا پانے کا نشہ ہی کچھ اور ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطنتیری محبت کی آگ میں جل کے، ہوا ہوں میں روشنمیری ہستی مٹ جائے، بس تیرا نام رہ جائےمیری روح کی پیاس، تیرے در پہ ہی بجھ جائے
بس تو ہی تو ہےمیرے اندر بھی، باہر بھی، ہر سو تو ہی تو ہےفنا ہو گیا میں، بقا پا گیا میںتجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو پا گیا میںتو ہی تو ہے...صرف تو ہی تو ہے...
تلاشِ ذات
ظاہرِ باطن
Preview